حج کی شیریں یاد کے ساتھ منا کی تلخ یاد افسوسناک ہے

IQNA

حج کی شیریں یاد کے ساتھ منا کی تلخ یاد افسوسناک ہے

9:17 - September 05, 2016
خبر کا کوڈ: 3501491
بین الاقوامی گروپ: دنیا میں جہاں کہیں مسلم کشی ہورہی ہے وہاں آل سعود کا پوشیدہ ہاتھ نظر آتا ہے۔ جنرل سیکریٹری مجلس وحدت

حج کی شیریں یاد کے ساتھ منا کی تلخ یاد افسوسناک ہے


حج کا موسم پھر آن پہنچا ہے اور ہرطرف حجاج کرام بارگاہ رب زولجلال کے حضور حاضری دینے کے لیے حج کی تیاریوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔

لذت و معنویت سے سرشار ان شیریں یادوں کے ساتھ اچانک جب سال گذشتہ میں منا واقعے کی تلخ یاد آتی ہے تو ایک خوفناک منظر نظروں میں گھوم جاتا ہے جہاں آل سعود کی نا اہلی کی وجہ سے ہزاروں حجاج دم گھوٹنے ، پیاس کی شدت اور پاوں تلے روندنے کی وجہ سے درجہ شہادت پر فائز ہوگیے تھے۔

کرین گرنے اور پھر راستہ بلاک ہونے کی وجہ سے منا میں بعض خبروں کے مطابق سات ہزار سے زائد حجاج جان بحق ہوگیے تھے جنمیں سے اکثر کو بغیر شناخت اور بغیر اجازت کے دفنایا گیا تھا۔

اس واقعے کے حوالے سے ایکنا نیوز نے مجلس وحدت مسلمین سندھ کے جنرل سیکریٹری اور تبلیغات اسلامی کے سربراہ حجت الاسلام مقصود علی ڈومکی سے گفتگو کی ہے جو حاضر خدمت ہے۔


ایکنا نیوز- منا سانحے کے حوالے سے پاکستان کی حکومت اور عوام کیا سوچتے ہیں اور کیا وجہ ہے کہ اسلامی ممالک نے اس واقعے پر کوئی خاص رد عمل ظاہر نہیں کیا ؟

حجت الاسلام مقصود علی ڈومکی: سب سے پہلے تو ہم سلام بھیجتے ہیں شہدائے منا پر جو مظلومیت کے عالم میں شہید ہوگیے تھے کہ جنکی یاد ہمیشہ ناقابل فراموش رہے گی۔

پاکستان میں عوام کی اکثریت اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اس میں کسی شک و تردید کی گنجائش نہیں کہ یہ واقعہ سعودی نااہلی کی وجہ سے رونما ہوا تھا اگرچہ بعض طبقہ فکر سعودی وہابی طرز فکر سے وابستگی اور ان کی مالی مدد لینے کی وجہ سے اس مسلے پر خاموش ہے ۔ رہی بات حکومت کی تو دنیا جانتی ہے کہ نواز شریف پر آل سعود کے کیا احسانات ہیں۔ یہ سعودی عرب ہی تھا جس نے نواز شریف کو پھانسی کے پھندے سے بچا کر پناہ دی اور انکی مدد کی وجہ سے آج وہ برسراقتدار ہے تو ظاہر ہے کہ وہ آل سعود کی مخالفت کبھی نہیں کرسکتا ہے۔

پاکستان سمیت مختلف دیگر اسلامی ممالک کا المیہ یہی ہے کہ اسلامی نمایندوں کے بجائے وہ امریکی سامراج کے غلام ہیں اور انکی خوشنودی انکو سب سے زیادہ عزیز ہے اور وہ اسی گناہ کی وجہ سے حق و باطل کی پہچان سے محروم ہوگیےہیں۔

اب ان میں یہ جرات نہیں کہ وہ آل سعود پر لب اعتراض ہلا سکے لہذا انہوں نے بدترین سعودی نااہلی اور اپنے حجاج کی قیمتی جانوں کے نقصان کے باوجود اس مسلے پر خاموشی اختیار کیاہے ۔


حج کی شیریں یاد کے ساتھ منا کی تلخ یاد افسوسناک ہے

ایکنا نیوز- منا واقعہ کیوں پیش آیا اور اس میں سعودی حکام کی نااہلی کس حد تک شامل ہے ؟

حجت الاسلام مقصود علی ڈومکی :جیسے کے عرض کیا کہ اس میں دو رائے نہیں کہ اس میں مکمل طور پر سعودی حکام کی نا اہلی کا عمل دخل سب سے زیادہ ہے گرچہ اسکو ایک سانحہ قرار دیکر واقعے پر سے چشم پوشی کی مکمل کوشش کی گیی مگر دنیا جانتی ہے کہ سینکڑوں حجاج کا راستہ بند ہونا اور دیر تک انکو طبی امداد سے محروم رکھنا اور ناقص انتظامات کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ سعودی حکام کی غفلت اور نااہلی سے ہٹ کر یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا اس میں سعودی حکام کی سازش تو شامل نہیں اور اس حوالے سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ ضروری ہے۔


شہدایے منا کی یاد کو کیسے زندہ رکھا جائے ؟

حجت الاسلام مقصود علی ڈومکی :حادثہ منا کی یاد کو زندہ رکھنا از حد ضروری ہے کیونکہ اس واقعے کی یاد زندہ رکھنے سے آل سعود کا مکروہ چہرہ مزید اجاگر ہوگا کیونکہ اس وقت دنیا میں جہاں کہیں مسلم کشی ہورہی ہے وہاں آپکو آل سعود کا ہاتھ ضرور نظر آیے گا اور یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ تاریخ میں ان کے جرایم کا حساب بے شمار ہے اور اسی طرح اس واقعے سے قاتل اور مجرم آل سعود جو امت مسلمہ کے لیے ایک خطرہ بن چکا ہے اسکے مکروہ چہرے سے مذہب اور تقدس کے لبادے کو اتارنا اہم فرض بن چکا ہے۔


ایکنا نیوز- منا واقعے کی برسی پر کویی خاص پیغام دینا پسند کریں گے؟

حجت الاسلام مقصود علی ڈومکی :میں سلام پیش کرتا ہوں شہدایے منا پر جنکی مظلومیت کا یہ عالم تھا کہ اکثریت کے رشتہ دار آخری دیدار بھی نہ کرسکے اور انکی میت بھی حاصل نہ ہوسکی اوربالخصوص پاکستان میں معروف عالم دین اور مجلس وحدت کے رہنما حجت الاسلام ڈاکٹر فخر الدین جو ان شہدا میں شامل تھے ان سب پر درود و سلام بیجھتے ہیں اور سب کے لیے میرا پیغام یہ ہے کہ اس واقعے کی یاد کو فراموش نہ ہونے دیا جایے ۔

نظرات بینندگان
captcha