
ایکنا نیوز- نیوز ایجنسی آناتولی کے مطابق میانمار کی وزارت ثقافت اور مذہبی امور کی کوششوں سے مختلف اقوام اور مذاہب میں نفرت ختم کرنے کے لیے بل تیار کیا گیا ہے جس سے اسلامو فوبیا روکنے میں مدد ملے گی۔
وزارت مذہبی امور کے ڈائریکٹرآنگ سان وی کا اس حوالے سے کہنا ہے :چھ مختلف تنظیموں کے نمایندوں کی مشاورت کے ساتھ اس بل کو تیار کیا گیا ہے۔
انکا کہنا ہے کہ جو نفرت انگیز پروپیگنڈہ کرے گا اس بل کے مطابق اسے تین سال قید کی سزا ہوسکتی ہے
حکمران جماعت«آنگ سان سو چی» کے قانونی مشیر«کو نای» کا کہنا ہے کہ اس بل کو منظور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
میانمار میں سال ۲۰۱۲ سے مسلمانوں پر حملے کیے جارہے ہیں۔
میانمار میں نسل پرست گروپ «مابا تا» کو مسلمانوں پر حملوں میں پیش پیش تصور کیا جاتا ہے اور اس بل کے حوالے سے اس گروپ کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
حکمران ڈیموکریٹ پارٹی کے برسراقتدار آنے سے مسلمانوں کے حقوق کے حوالے سے کوششیں تیز ہوچکی ہیں اور اسی حوالے سے گذشتہ دنوں کوفی عنان نے بھی میانمار کا دورہ کیا تھا۔