
ایکنا نیوز- نیوز ایجنسی «Eintifada» کے مطابق ۳۲ سالہ صھیونی شہری جوزف مایکل شرایبر کو سنٹ لوسی میں انکے گھر سے مسجد کو آگ لگانے اور نفرت انگیز مواد تقسیم کرنے کے حوالے سے گرفتار کرلیا گیا ہے
شرایبر نے گرفتاری کے بعد جرم کا اعتراف کرلیا ہے۔
امریکی انتخابات کے حوالے سے مہم شروع ہوتے ہی اسلامو فوبیا میں بھی شدت آگیی ہے
فلوریڈا کی مسجد پر حملے کا واقعہ عید سے ایک دن پہلے رات کے وقت پیش آیا تھا۔
سنٹ لوسی پولیس نے شرایبر کو «عادی مجرم» کو قرار دیا ہے اور انکے مطابق یہ شخص فیس بک پر بھی مسلمانوں ک خلاف پروپیگنڈہ کرتا رہتا ہے۔
اس واقعے میں ایک لاکھ ڈالر مسجد کو نقصان پہنچا تھا جسکے تیس ہزار ڈالر خیرین نے جمع کرلیے ہیں۔
شرایبر کو ڈونالڈ ٹرمپ اور صھونی وزیر اعظم کا حامی بھی سمجھا جاتا ہے
شرایبر نے بارہ جولایی کے پوسٹ میں لکھا تھا کہ تمام مسلمان دہشت گرد اور مجرم ہیں۔
بعض زرائع اس شخص کو «امریکن ڈیولپمنٹ سنٹر» کا رکن قرار دیتا ہے جو اسلامو فوبیا میں پیش پیش رہتا ہے۔