
ایکنا نیوز- نیوز ایجنسی «القدس العربی» کے مطابق وزارت تعلیم کا کہنا ہے کہ قرآنی آیات میں تحریف کا ذمہ دار پبلشرز ہیں اور ان کتابوں کو جمع کرنے کا حکم دیا جائے گا.
مختلف سوشل میڈیا کی تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ درسی کتب میں موجود قرآنی آیات میں غلطیاں موجود ہیں مگر وزارت تعلیم کے زرایع بتاتے ہیں کہ ان سے ہم آہنگ کیے بغیر ان کتابوں کو چھاپا گیا ہے۔
وزارت تعلیم کے حکام بتاتے ہیں کہ ابتدائی کتابوں میں انکی جانب سے کوئی قرآنی آیت شامل نہیں کی گئی ہے اور نہیں معلوم کس کی اجازت سے یہ قدم اٹھایا گیا ہے.
قابل ذکر ہے کہ مراکش کی پرائمری کلاسوں کی کتابوں میں «تربیت اسلامی» کے عنوان سے آیات شامل کی گییں ہیں جنمیں بہت سی غلطیاں موجود ہیں۔
مثلا حرف «تاء» لفظ «التوابین» جو آیت ۲۲ سوره بقره میں ہے«إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ» کی جگہ «ثاء» لکھا گیا ہے۔