ایکنا نیوز- شفقنا- پولیس چیف کے بقول لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے سیاسی عناصر اور بھارت کی خفیہ ایجنسی را نے محرم کی نویں اور دسویں تاریخ کو کراچی میں بڑی دہشت گردی کا منصوبہ بنایا تھا۔ اسلحے کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، ان میں اینٹی ایئرکرافٹ گنز، ایس ایم جیز، سیون ایم ایم رائفل، چائنا رائفل، رائفل راکٹ لانچر، ہینڈ گرینیڈ، بلٹ پروف جیکٹس اور لاکھوں کی تعداد میں مختلف ہتھیاروں کی سوا پانچ لاکھ سے زائدگولیاں بھی شامل ہیں۔ اگر یہ اسلحہ خدانخواستہ استعمال ہو جاتا تو کراچی میں کتنی بڑی خونریزی ہوتی اس کا تصور محال ہے۔ اسلحے کی مالیت تو کروڑوں روپے بنتی ہے، کیا یہ خریدا گیا، تو کس کے پاس اتنے پیسے تھے یا پھر نیٹو افواج کا اسلحہ تھا جو کراچی کے بندرگاہ سے غائب ہوا تھا، خدشات بہت ہیں، وہم وگمان سے بھی بڑھ کر۔ کراچی پاکستان کی معاشی و اقتصادی بیک بون ہے، اندرونی اور بیرونی دشمن مل کر اسے تباہ کرنا چاہتے ہیں۔
تین دہائیاں گزر چکی ہیں، عالمی سازشوں کے بنے جال کو کاٹتے ہوئے، لیکن ہر بار پرانے شکاری نئے جال لے کر آ جاتے ہیں۔ کیا ہم میں سے کچھ لوگ ان کے آلہ کار بنتے ہیں۔ کراچی کو بچانا ہے تو آپریشن جاری رکھنا ہو گا۔