
ایکنا نیوز- «اسٹار ٹیلگرام» کے مطابق مذکور قرآںی مرکز کے تعاون سے پہلی بار منعقد ہونے والی اس نشست میں مختلف اسلامی دانشوروں کے علاوہ پولیس اور ایف بی آئی کے اعلی حکام اور ماساچوسٹ یونیورسٹی کے کلیسا کے نمائندے بھی شریک تھے
نشست کے شرکاء نے ٹیکساس کے مسلمانوں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسلام،عیسائیت اور یہودیت میں مشترکات اور بقائے باہمی پر زور دیا.
ٹیکساس کے شہر «ایروینگ» کی جامع مسجد کے خطیب «مجاهد بکاش» نے نشست سے خطاب میں کہا :
سال ۱۹۸۳ کو جب میں یہاں آیا تھا تو صرف دو مسجد تھی مگر اب ۸۶ مساجد موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کی فضا پیدا کرنے میں ڈونالڈ ٹرمپ جیسے سیاست دان ہی نہیں بلکہ میڈیا کا بھی بڑا کردار رہا ہے.
ماساچوسٹ کلیسا کے پادری «ریو راس بویڈ» نے نشست سے گفتگو میں کہا : میں نوجوانوں سے درخواست کرونگا کہ اسلام کے حوالے سے میڈیا کی باتوں پر یقین نہ کریں بلکہ خود مسلمانوں سے جاکر سوالات پوچھیں۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی نشستوں سے مذاہب میں ہم آہنگی میں اضافہ ہوگا۔