
ایکنا نیوز- نیوز ویب سایٹ " سوار" کے مطابق لندن اسکول میں «olive tree» اسکول کی بانی اور پرنسپل طاہرہ اختر بیکوقت قرآنی تعلیمات اور جدید علوم کی ترویج میں اہم کردار ادا کررہی ہیں
رپورٹ کے مطابق پہلا مدرسہ انہوں نے اپنے گھر میں قائم کیا اور جلد ہی اس مدرسے کے چار شعبے دیگر علاقوں میں بنائے گیے۔
انکا کہنا ہے: مدرسہ بنانے کا خیال آٹھ سال پہلے آیا جب میں چاہتی تھی کہ اپنی بیٹی کو کسی اسکول میں داخل کرادوں جہاں وہ جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کی تعلیم بھی حاصل کرسکے مگر کوئی ایسا مناسب اسکول مجھے نہیں ملا۔
طاہرہ اختر کا کہنا ہے کہ میں سوچتی تھی کہ کویی ایسا سسٹم ہو جہاں بچوں کو دلچسپ انداز میں تفریح اور گیم کی صورت میں تعلیم دی جائے تاکہ وہ پڑھائی کو بوجھ نہ سمجھیں۔
انکا کہنا ہے کہ انہیں خیالات کی وجہ اس طرز کے اسکولوں کے قیام کے لیے میں نے کوشش کی جسمیں مجھے کامیابی ملی ہے۔
طاہرہ کا کہناہے کہ میں نے گھر میں اسکول کی اجازت لیکر کلاسوں کا آغاز کیا اور بچوں کو نماز اور قرآن پڑھانا شروع کیا اور جلد ہی بچوں کی تعداد اتنی بڑھی کہ گھر میں جگہ کم پڑگئی اور آج خدا کے کرم سے چار اسکول کام کررہے ہیں جو میری نگرانی میں سرگرم عمل ہیں۔
اسکول کی پرنسپل کا کہناہے : ہر ہفتے کو خواتین کی کلاس بھی منعقد کرائی جاتی ہے جسمیں انہیں گھر بیٹھےسوشل میڈیا کے زریعے سے درس دینے کا اہتمام دیا گیا ہے۔


