
ایکنا نیوز- نیوز چینل «الجزیره» کے مطابق اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ماہرین نے مسلمانوں کو آگ لگانے اور ان کے قتل عام پر تحقیق کا مطالبہ کیا ہے
برما کی حکومت نے الزام عاید کی ہے کہ نو پولیس افسروں کے قتل میں مسلمانوں کا ایک گروپ ملوث ہے جسکے بعد راخین صوبے میں مسلمانوں پر تشدد کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا گیا جو اب تک جاری ہے۔
امدادی ٹیموں کے مطابق گذشتہ ایک مہینے کے تشدد کے نتیجے میں اب تک پندرہ ہزار افراد گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔
نوبل انعام یافتہ «آنگ سان سوچی» کی حکومت میں پولیس دہشت گردی کے نام پر صوبہ راخین میں مسلمانوں پر بدترین مظالم ڈھا رہی ہے
حکام کے مطابق تین سو افراد پر مشتمل ایک مسلمان دہشت گرد گروپ کے ۵۳ افراد گرفتار اور تیس دیگر کارروائیوں میں ہلاک ہوچکے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے نام پر بیگناہ شہریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔