بین الاقوامی گروپ: پولیس ٹریننگ کالج میں آپریشن تین گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد عمارت کو کلیئر کیا گیا۔سول اسپتال میں خودکش حملے کے بعد کوئٹہ میں گزشتہ 3 ماہ کے دوران دہشتگردی کی یہ دوسری بڑی کارروائی ہے، جس پر شہر میں سوگ کا سماں ہے
ایکنا نیوز-شفقنا-گزشتہ روز کوئٹہ میں امن دشمنوں کے پولیس ٹریننگ کالج پر حملے میں جاں بحق اہلکاروں کی تعداد 61 ہو گئی ۔ پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں کے آپریشن میں دو بمباروں سمیت تین دہشت گرد ہلاک کر دیئے گئے ۔ حملے کے بعد سرچ آپریشن کر کے ٹریننگ سینٹر کو کلیئر کرا لیا گیا ۔ تین دہشت گردوں نے تاریکی کا فائدہ اٹھایا اور پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ کر دیا ۔ پہلے فائرنگ کر کے واچ ٹاور پر موجود اہلکار کو شہید کیا اور پھر دہشت گرد ہاسٹل میں داخل ہوئے اور اہلکاروں کو یرغمال بنانے کے بعد نشانہ بنایا ۔ اطلاع ملتے ہی پاک فوج کی اسپیشل ٹیم ، ایف سی اور اے ٹی ایف اہلکار پہنچے اور علاقے کا محاصرہ کر کے کارروائی شروع کی ۔ جس کے بعد علاقہ گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور دھماکوں سے گونج اٹھا ۔ پاک فوج اور ایف سی کمانڈوز نے کارروائی میں ایک بمبار کو مار کو ٹھکانے لگایا اور دو دہشت گردوں نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا ۔ پولیس ٹریننگ کالج میں آپریشن تین گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد عمارت کو کلیئر کیا گیا۔سول اسپتال میں خودکش حملے کے بعد کوئٹہ میں گزشتہ 3 ماہ کے دوران دہشتگردی کی یہ دوسری بڑی کارروائی ہے، جس پر شہر میں سوگ کا سماں ہے، اہم کاروباری مراکز اور مارکیٹیں بند ہیں۔آپریشن مکمل ہونے کے بعد آئی جی ایف سی میجر جنرل شیرافگن نے میڈیا کو بتایا کہ حملہ آوروں کو افغانستان سے ہدایات مل رہی تھیں اور ان کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی العالمی سے تھا۔ان کی اطلاعات کے مطابق حملہ کے دوران حملہ آوروں کو افغانستان سے ہدایات وصول ہو رہی تھیں۔ اس طرح ایک بار پھر یہ بات واضح کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اس حملہ میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہے۔ اس سے پہلے حکومت یہ بتاتی رہی ہے کہ بھارت افغانستان کے راستے بلوچستان میں انتشار پیدا کرنے اور حملے کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ تاہم ان الزامات کے واضح ثبوت سامنے نہیں آئے اور نہ ہی اس خطرہ کی مکمل طور سے روک تھام ہو سکی ہے۔ دہشت گرد حملوں میں ملوث حملہ آوروں کی شناخت سے یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ انہیں خواہ کسی دشمن ملک نے وسائل فراہم کئے ہوں اور ان کی تربیت کی ہو لیکن وہ ایک خاص مقصد کے لئے اس قسم کے ہلاکت خیز حملوں میں ملوث ہوتے ہیں اور انسانی جانوں کا نقصان کرنے کے ساتھ اپنی جان دینے پر بھی بخوشی تیار ہو جاتے ہیں۔یہ عناصر صرف مالی مفادات کے لئے یہ مذموم کام نہیں کرتے بلکہ انہیں اسلامی نظام کے نفاذ کا سپاہی بنا کر اس گھناؤنے کام کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی حکومت کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ وہ اس مزاج اور ان عناصر کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے جو ایسا شدت پسند مزاج ملک میں عام کرنے کا کام کھلے عام کرتے رہے ہیں۔ اسلام آباد کے قلب میں لال مسجد کی شہدا فاؤنڈیشن اور مولانا عبد العزیز، اکوڑہ خٹک کا حقانیہ دارالعلوم اور اس کے مہتمم مولانا سمیع الحق اور دفاع پاکستان کونسل میں شامل متعدد عناصر اسی مزاج کا حصہ ہیں اور وہ سیاسی اسلام کے فروغ اور شرعی نظام کے نام پر مسلح جد و جہد کو جائز قرار دیتے ہیں۔ لیکن سیاسی ضرورتوں کے لئے تحریک انصاف کی حکومت بھی ایسے مدارس کو کثیر مالی امداد دیتی ہے اور ملک کے وزیر داخلہ بھی حسب ضرورت ان سے ملاقات کرنے اور خطرناک لوگوں کو سہولتیں دینے کے بارے میں مطالبے ماننے سے گریز نہیں کرتے۔ جب حکومتیں سماج میں شدت پسندی کو فروغ دینے والے عناصر پر قابو پانے میں ناکام رہیں گی، کوئٹہ جیسے سانحات کا روکنا ممکن نہیں ہوگا۔