
ایکنا نیوز- شفقنا- کوئٹہ میں سریاب روڈ پر دہشت گردوں نے پولیس ٹریننگ کالج کے ہاسٹل پر حملہ کرکے زیرتربیت ریکروٹس کو یرغمال بنالیا۔ اس حملے کے دوران دہشت گردوں نے تین دستی بم پھینکے جو زوردار دھماکے سے پھٹ گئے اور آگ بھی بھڑک اٹھی جبکہ اسی دوران دہشت گردوں نے ریکروٹس پر فائرنگ کا سلسلہ بھی شروع کردیا جس سے ایف سی کے ساٹھ سے زائد اہلکار جاں بحق اور ایک سو سے زائد زخمی ہوگئے۔ جاں بحق ہونیوالوں میں پانچ فوجی جوان بھی شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں سے 15 کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ اس واردات کے دوران ایک دہشت گرد کی جانب سے خود کو دھماکے سے اڑائے جانے کی اطلاعات موصول ہوئیں تاہم سرکاری ذرائع نے اسکی تصدیق نہیں کی۔ سانحہ کوئٹہ کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں یہ حملہ کرنے والے دہشت گردوں کا سراغ نہیں لگا سکیں حالانکہ سیکیورٹی ادارے ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کر رہے ہیں۔ میڈیا میں ایسی اطلاعات بھی آئی ہیں کہ دہشت گردوں کی کسی ممکنہ کارروائی کے بارے میں اطلاعات موجود تھیں لیکن دہشت گردوں کے حقیقی ہدف کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکااور نہ ہی دہشت گردوں کی پناہ گاہ اور ان کے ہنڈلرز کو واردات سے پہلے پکڑا جا سکا جس کے نتیجے میں اتنا بڑا سانحہ ہو گیا۔ویسے بھی بلوچستان اب دہشت گردوں اور ان کے حملوں کا واضح ٹارگٹ ہے‘ بلوچستان میں دہشت گردوں کے مختلف گروہ سرگرم عمل ہیں جنھیں غیر ملکی دشمنوں کی مدد حاصل ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ بلوچستان میں سیکیورٹی اداروں کے انتظامات بھی بہت ہیں لیکن اس کے باوجود دہشت گرد گروہوں کا سرگرم عمل ہونا سمجھ سے باہر ہے۔وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کوئٹہ میں حملے کے منصوبہ سازوں تک پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔ جس طرح انٹیلی جنس کے حوالے سے سال رواں کے آغاز میں چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کرنے والوں کی ٹھیک ٹھیک نشان دہی کر لی گئی تھی‘ اور یہ تک پتا چلا گیا تھا کہ وہ کن راستوں سے ہوتے ہوئے وہاں پہنچے اور کہاں کہاں سہولت کاروں نے انہیں مدد فراہم کی‘ انہی خطوط پر تحقیقات کی جائے تو کوئٹہ حملے کے ماسٹر مائنڈ تک پہنچنا بھی مشکل نہ ہو گا۔ کوئٹہ سانحے کے بعد تمام اہم اداروں اور مقامات کی سکیورٹی بہتر بنانے کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ بڑے شہروں میں سکیورٹی بڑھائی بھی گئی ہے‘ لیکن بطور ایک قوم اگر ہم حالت جنگ میں ہیں تو ہمیں چوکس رہ کر یہ فرض ادا کرنا ہو گا۔ وزیرا اعظم نے تمام کالعدم گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔ سوال تو صرف یہ ہے کہ یہ حکم جاری کرنے کے لئے مزید ساٹھ جوانوں کی قربانی کا انتظار کیوں کیا گیا ۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ کالعدم قرار پانے والے گروہ تو نئے ناموں اور پرانے چہروں کے ساتھ سرگرم عمل ہیں، تو یہ کارروائی کس کے خلاف ہو گی۔ ان کالعدم ناموں کے خلاف جو خود انہیں اختیار کرنے والوں نے ترک کردئے۔ اور سوال یہ بھی ہے کہ اگر دہشت گرد کی کوئی سرحد نہیں ہوتی تو ہم صرف بلوچستان میں ہی ان نام نہاد ’کالعدم‘ گروہوں کو کیوں تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں لاہور میں لشکر طیبہ کا عالمی اشتہاری حافظ سعید جماعت الدعوۃ کے نام سے سرگرم عمل کیوں دکھائی نہیں دیتا۔ بھارت کا مفرور مولانا مسعود اظہر جنوبی پنجاب میں کیوں اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہے۔ اورجولائی 2007میں فوج کے ساتھ محاذآرائی کرنے والا مولانا عبدالعزیز اسلام آباد میں ہی بیٹھ کر حکومت کو کیسے للکارتا ہے۔پھر سے مطالبہ ہؤا ہے کہ قومی ایکشن پلان پر عمل کیا جائے۔ اگر یہ ایکشن پلان مدرسوں کو کنٹرول کرنے اور سلیبس سے زہر آلود مواد نکال کر نفرت اور تعصب کا راستہ روکنے کا نام نہیں ہے تو پھر کیا یہ کوئی ایسا ’اسم اعظم ‘ ہے جس کا ورد کرنے سے قوم کی ساری مشکلیں حل ہو جاتی ہیں۔ یا یہ ایک ایسے منصوبے کا نام ہے جو ایک تصویر پر عالمی شہرت پانے والی شربت گلہ کو گرفتا کرکے دنیا بھر میں پاکستان کے قانون کی بالادستی کا شہرہ کرسکتا ہے۔ یا یہ اس کارنامے کا نام ہے جو اس کے وزیر داخلہ دفاع کونسل پاکستان کے مشکوک مولویوں سے مل کر فورتھ شیڈول میں شامل ہزاروں مشکوک ملاؤں کو سہولت دینے کی صورت میں انجام دیتے ہیں۔