
ایکنا نیوز- العالم نیوز کے مطابق داعش کے اکیس سالہ حسن حمزہ کا کہنا ہے کہ جنت کی لالچ اور اچھی تنخواہ کے لیے انہوں نے داعش جوائن کیا ۔
انکا کہنا تھا: «پہلے مجھے ایک کیمپ لیا گیا جہاں ایک مہینے تک مجھے لڑنے کی تربیت دی گئی اور پھر مجھے تلعفر لایا گیا جہاں ایک مہینے تک مجھے گوداموں کی سیکورٹی پر ذمہ داری سونپی گیی ».
حسن کا کہنا ہے کہ مجھے سرکاٹنے کے لیے رقہ بھیجوایا گیا جہاں کافی مدت تک ہمیں سرکاٹنے کے بارے میں دروس دیے گیے اور متعدد بار عملی طور پر ہمارے سامنے لوگوں کے سر کاٹے گیے ۔
مختصر مدت میں مجھے جلاد بنایا گیا اور صرف ایک دن میں مشق کے لیے میں نے چھ شیعوں کا سرقلم کیا
حسن کا کہنا ہے کہ ہمیں روز بتایا کرتے کہ عراقی فورسز کافر ہیں انکے خلاف جنگ ضروری ہے مگر اب میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ سارے نمازی ہیں۔
حسن نے اپنے دیگر ساتھیوں سے درخواست کی ہے کہ وہ ہتھیار پھینک کر خود کو تسلیم کریں وگرنہ سب مارے جائیں گے ۔