اسپین؛ «اسلام اور شدت پسندی» سیمینار کا انعقاد

IQNA

اسپین؛ «اسلام اور شدت پسندی» سیمینار کا انعقاد

7:19 - November 27, 2016
خبر کا کوڈ: 3501991
بین الاقوامی گروپ: اسپین میں ایرانی ثقافتی مرکز کے تعاون سے «اسلام اور شدت پسندی» سیمینار میڈریڈ میں منعقد کیا گیا

اسپین؛ «اسلام اور شدت پسندی» سیمینار کا انعقاد


ایکنا نیوز- ادارہ ثقافت و تعلقات اسلامی کے مطابق «اسلام اور شدت پسندی» سیمینار میں ایرانی ثقافتی ایمبیسیڈر علی رضا اسماعیلی کے علاوہ مختلف شعبوں سے علمی شخصیات شریک تھیں۔

سیمینار سے آتنیو ثقافتی مرکز کے ڈپٹی ڈایریکٹر ماریا ویکٹوریا کارو برنال نے کہا کہ موجودہ حالات کے تناظر میں اسلام کے حوالے سے درست پیغام پہنچانے کے لیے ایسے سیمنار کا انعقاد ازحد ضروری ہے

اسپین اسلامی علما کونسل کے سربراہ ماریا ایزابل رومرو نے اسلام، دہشت گردی اور شدت پسندی پر خطاب میں کہا کہ تشدد اور شدت پسندی تمام ادیان میں قابل مذمت ہے

انہوں نے کہا کہ حضرت محمد(ص) شدت پسندی کے حوالے سے پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں۔


اسپین میں مسلم فیڈریشن کے سیکریٹری یوسف فرنانڈز نے سیمینار سے خطاب میں کہا : قرآن، احادیث اور اصحاب کے مطابق شدت پسندی کا اسلام سے تعلق نہیں اور اس کو بخوبی انکی تعلیمات سے واضح کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خوارج کو اسی وجہ سے دین سے خارج جانا جاتا ہے کہ انہوں نے حد سے تجاوز کرتے ہوئے شدت پسندی کا راستہ اپنایا تھا۔

اسپین میں نقش بندی سلسلے کے رہنما شهاب‌الدین میلان نے کہا کہ میڈیا کو غلط پروپیگنڈوں سے اجتناب کرنا چاہیے اور چند شدت پسندوں کا مسلمانوں کے نمایندے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔


انکا کہنا تھا کہ شیعہ سنی بلکہ تمام ادیان میں برادری و اخوت انسانیت کا اولین تقاضا ہے

اسپینش جرنلسٹ خوان آنتونیو آگیلار نے شدت پسندی کو امریکی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ تیل کے ذخایر پر قبضے کے لیے اس طرح کی سازشیں کی جاتی ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ داعش سمیت تمام دہشت گرد عناصر امریکی مفادات اور اسرائیل کی بقا اور تحفظ کے لیے پیدا کیے گیے ہیں اور اس بہانے اسلام کو عالمی سطح پر قصور وار ٹھرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔


3549137

نظرات بینندگان
captcha