
ایکنا نیوز- نیوز ایجنسی «کل العراق» سے گفتگو میں ایک اعلی سیکورٹی عہدہ دار نے انکشاف کیا کہ داعش کے عناصر قرآنی جلدوں میں بم رکھ کر انہیں سڑکوں اور لوگوں کے دروازوں پر رکھ رہے ہیں
سیکورٹی افیسر کے مطابق داعش کے دہشت گرد ان نسخوں کے اوراق پھاٹ کر جلد کے اندر بم رکھ کر انہیں مختلف جگہوں پر رکھ رہے ہیں اور اب تک درجنوں ایسے قرآنی نسخے برآمد ہوچکے ہیں۔
اس سے پہلے الرمادی اور ڈیالہ میں بھی داعش کے عناصر قرآن جلدوں میں بم رکھنے کی سازش کرچکے ہیں۔
جبکہ مساجد اور عبادت گاہوں کو اڑانے کی کارروائی داعش کے سیاہ کارناموں کا اہم حصہ ہے۔
گذشتہ مہینے سے جاری موصل آپریشن میں اب تک ایک ہزار سے زائد داعش کے دہشت گرد انجام کو پہنچ چکے ہیں۔
ہزاروں رضا کار اور عراقی فورسز موصل شہر کو گھیرے میں لے چکے ہیں اور ماہرین کے مطابق عراقی فورسز کی پیشرفت قابل تحسین ہے۔
عراقی وزیر اعظم حیدرالعبادی کے مطابق موصل کو اس سال کے آخر تک ہر صورت میں آزاد کرالیا جائے گا ۔