ایکنا نیوز- ڈان نیوز- 17 اپریل 1942 کو دہلی میں ہیدا ہونے والے اس قوال کا اصل نام عبدالعزیز تھا اور میاں ان کا تکیہ کلام تھا، جو وہ اکثر اپنی قوالیوں میں بھی استعمال کیا کرتے تھے۔
انھوں نے1947 میں پاکستان ہجرت کرکے لاہور میں سکونت اختیار کی اور استاد عبدالوحید سے فنِ قوالی سیکھنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے عربی، فارسی ادب اور اردو ادب میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔
وہ اپنی بیشتر قوالیاں خود لکھتے تھے، اس کے علاوہ انہوں نے علامہ محمد اقبال، صادق اور قتیل شفائی کا کلام بھی بارہا گایا۔
عزیز میاں کا شمار قدرے روایتی قوالوں میں ہوتا تھا، ان کی آواز بارعب اور طاقتور تھی، لیکن ان کی کامیابی کا راز صرف ان کی آواز نہیں تھی، عزیز میاں نہ صرف ایک عظیم قوال تھے بلکہ ایک عظیم فلسفی بھی تھے۔
انہیں اپنے ابتدائی دور میں فوجی قوال کا لقب ملا کیونکہ ان کی شروع کی سٹیج کی بیشتر قوالیاں فوجی بیرکوں میں فوجی جوانوں کے لیے تھیں۔
مختلف قسم کے معمولی الزامات پر انہیں کئی دفعہ گرفتار کیا گیا لیکن بعد میں بری کر دیا گیا۔
عزیز میاں کو شاعری پڑھنے میں کچھ ایسی مہارت حاصل تھی جو سامعین پر گہرا اثر چھوڑ جاتی تھی، ان کی بیشتر قوالیاں دینی رنگ لیے ہوئے تھیں گو کہ انہوں نے رومانی رنگ میں بھی کامیابی حاصل کی تھی۔
عزیز میاں کی مقبول ترین قوالیوں میں شرابی، تیری صورت اور اللہ ہی جانے کون بشر ہے شامل ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ، صابری برادران نے عزیز میاں کی قوالی ’میں شرابی شرابی‘ کو اپنی ایک قوالی ’پینا وینا چھوڑ شرابی‘ میں تنقید کا نشانہ بنایا، جس پر عزیز میاں نے اس کا ترکی بہ ترکی جواب اپنی ایک اور قوالی ’ہائے کمبخت تو نے پی ہی نہیں‘ میں دیا، عزیز کے صابری برادران کو جواب کے بعد سے ’میں شرابی شرابی‘ اور ’ہائے کمبخت تو نے پی ہی نہیں‘ کو ایک ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔
عزیز میاں کا انتقال 6 دسمبر، 2000 کو ایران کے دارلحکومت تہران میں یرقان کی وجہ سے ہوا۔
انہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی برسی کے موقع پر ایرانی حکومت نے قوالی کیلئے مدعو کیا تھا تاہم آپ کی تدفین آبائی قبرستان ملتان میں کی گئی۔