
ایکنا نیوز- پریس ٹی وی کے مطابق شیخ زکزاکی بغیر مقدمے کے ایک سال سے جیل میں قید ہیں اور حالیہ دنوں انکی آزادی کے حوالے سے عدالتی حکم کے باوجود کادونا صوبے کا ایک اعلی متعصب حکومتی عہدہ دار زکزاکی کی اسلامی تحریک کو شورش پھیلانے کے حوالے سے ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ دہرا رہا ہے۔
مذکورہ عہدہ دار نے انہیں بیرونی ملک کا آلہ کار قرار دیتے ہوئے اسلامی تحریک کو غیرقانونی قرار دیا ہے
شیعہ لیڈر شیخ زکزاکی اپنی بیوی کے ہمراہ ایک سال سے قید میں ہیں جبکہ عدالت نے انہیں اور انکی بیوی کو بے قصور ٹھراتے ہوئے آزاد کرانے کا حکم صادر کیا ہے۔
فیڈرل عدالت کے چیف جسٹس گابریل کلاوول نے پینتالیس دن کی مہلت دی ہے تاکہ شیخ زکزاکی کے لیے مکان کا انتظام کرکے انہیں آزاد اور ہر ایک کو ۷۹ ہزار ڈالر تاوان کے طور پر دیا جائے۔
کادونا صوبے کے مذکورہ عہدہ دار کے موقف کے بعد خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ انکی آزادی میں رکاوٹ پیدا کی جاسکتی ہے ۔
دسمبر ۲۰۱۵ سے نایجیریا کی اسلامی تحریک کے خلاف کارروائی میں تیزی لائی گیی ہے ۔