
ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے «whec» کے مطابق گذشتہ ہفتے کو ایک کام کی وجہ سے دو مسلمان طلبا مذکورہ کلیسا گیے تو انتظامیہ نے سیکورٹی والوں کو فون کیا اور طلبا کی توہین کی گئی۔
مظاہرین نے کلیسا کے رویے کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایسی حرکات قابل برداشت نہیں اور کلیسا اس اقدام کے حوالے سے اپنا موقف واضح کریں۔
مظاہرہ میں شریک ایک شخص نے پلے کارڑ اٹھایا تھا جس پر لکھا تھا: کردار مسیح(ع) کو دوبارہ زندہ کیجیے۔
کلیسا کے پادری راب کاتالانی نے مظاہرین سے معذرت کرتے ہوئے اس اقدام کو غلط فہمی قرار دیا اور کہا کہ کلیسا کا دروازہ سب کے لیے کھلا ہے ۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ مظاہرہ کلیسا کے خلاف نہیں بلکہ اسلاموفوبیا کے خلاف ہے اور مسیحی برادری سے درخواست ہے کہ وہ ان حرکات کی روک تھام کے لیے کردار ادا کریں ۔