
ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے «The Free Thought» کے مطابق مغربی میڈیا شام میں حقایق کو الٹا پیش کرنے کی پالیسی پر گامزن ہوچکا ہے
مغربی میڈیا کی کوشش ہے کہ افکار عمومی کو یہ باور کرایا جائے کہ روس اور شامی فورسز عوام کا قتل عام کررہے ہیں۔
ایک طرف سوشل میڈیا پر دیکھا جاسکتا ہے کہ شامی فوجیں زخمیوں اور بچوں کی مدد پر کام کررہی ہیں مگرمغربی میڈیا انکو قتل عام میں ملوث پیش کرنے میں مصروف ہے
کینیڈا کے صحافی ایوا بارٹلیٹ نے کلیپ پیش کیا ہے جسمیں واضح کیا گیا ہے کہ کسطرح امریکہ اور یورپ میں عوام کو جھوٹی خبریں بنا کرپیش کی جارہی ہیں۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی پریس کانفرنس سے خطاب میں بھی کہا تھا کہ میں خود حمص،طرطوس،معمولا،لازقیہ اور حلب کا متعدد بار دورہ کرچکا ہوں اور میں نے دیکھا ہے کہ کسطرح لوگ اپنی حکومت کی حمایت کرتے ہیں جبکہ میڈیا اسکے برعکس واقعات پیش کررہا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ آپ جو بی بی سی ۔ نیویارک ٹایمز یا گارڈین سے سنتے ہیں واقعات اسکے برعکس ہیں کیونکہ یہاں امریکہ دہشت گردوں کی یہاں پر حمایت کررہا ہے اور یہی مسلہ بحران پیدا کررہا ہے۔
ایک اور صحافی ونسا بیلی جو برطانیہ سے تعلق رکھتا ہے انکا کہنا ہے کہ میں اس وقت حلب میں موجود ہو اور ممکن نہیں کہ ویڈیو کلیپ اپ لوڑ کرسکو مگر یہاں عوام دہشت گردوں کے نرغے میں ہیں اور شامی فورسز انہیں بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
غیر جانبدار صحافیوں کے مطابق جب شام میں سرعام بیگناہوں کے سر کاٹے جارہے تھے جب عورتوں کی خریدوفروش جاری تھی اور ہر روز داعش نت نیے طریقوں سے ہلاکتوں کی تجاویز مانگ رہی تھے اور مسجد و مزارات کو بموں سے تباہ کیے جارہے تھے یہی میڈیا خاموش تھا اور اب دہشت گردوں کی شکست کی وجہ سے برما اور فلسطین کی تصاویر کو شام اور حلب کے مظلومین کے نام سے جاری کیے جارہے ہیں ۔