
ایکنا نیوز- رایٹرز نیوز کے مطابق برما میں مسلمانوں کی حالت زار اور بحران کو حل کرنے کے حوالے سے یانگون میں جنوب مشرقی ایشیایی ممالک کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا تاکہ اس بحران کا حل نکالا جاسکے ۔
ملایشیاء کے وزیر خارجہ عنیفه امان نے نشست سے خطاب میں کہا : میانمار میں مسلمانوں کی حالت انتہایی ابتر ہے اور جنوب مشرقی ممالک کو انسانی ہمدردی کے تحت فوری طور پر انکی مدد کرنی چاہیے
میانمار کی حکومت ان الزامات کو رد کرتی آرہی ہے اور انکا کہنا ہے کہ راکھین صوبے کا ایشو انکا اندورونی مسئله ہے۔
ہیومن رایٹس واچ نے بھی برما میں مسلمانوں کی حالت زار کو افسوسناک قرار دیا ہے اور میانمار کے مظالم کی شدید مذمت کی ہے
برما میں راکھین صوبے کے لاکھوں مسلمان سنگین خطرات اور مسایل سے دوچار ہیں اور انکو انکی شہریت سے محروم کیا گیا ہے۔
سال ۲۰۱۲ سے انکے خلاف مظالم میں شدت لائی گئی ہے جسکے نتیجے میں ہزاروں مسلمان قتل یا مہاجرت پر مجبور ہوگیے ہیں
گذشتہ ایک مہینے سے نو پولیس کے قتل کے الزام میں وحشتناک تشدد کا نیا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور انکے گھروں کو جلانے کے علاوہ خواتین سے اجتماعی زیادتی کے واقعات رونما ہونے کی اطلاعات ہیں ۔