
ایکنا نیوز- العالم نیوز کے مطابق حزب اللہ لیڈر سید حسن نصراللہ نے عیدمیلاد النبی کے حوالے سے منعقدہ طلبا کی ایک تقریب سے خطاب میں کہا: رحمت اللعالمین کے خوبصورت دین کو خراب کرنے کی مغربی سازش ناکام ہوگی اور مغربی میڈیا اس سازش میں ناکام ہوگا
حسن نصرالله نے کہا کہ وہابی سوچ تمام دہشت گردانہ مسایل کی جڑ ہے جو خود کو تمام دیگر افراد اور مسالک پر حاوی کرنا چاہتی ہے اور اسی سوچ کا اثر ہے کہ گذشتہ ہفتے ایک چھوٹی سی بچی کو انکے ہی والدین بم دیکر حملے کے لیے استعمال کرتی ہیں ایسی سوچ اور نظریے کی مذمت کرنا سبکی ذمہ داری ہے
انہوں نے کہا کہ اسی تکفیری-وہابی سوچ کی وجہ سے بوکوحرام لڑکیوں کو متعدد دھماکوں میں استعمال کرچکی ہے اور بازار و مسجد میں سینکڑوں بیگناہ افرادجان بحق اور زخمی ہوچکے ہیں ۔
حزب اللہ لیڈر سید حسن نصراللہ نے کہا کہ رحمت اللعالمین کے دین میں شدت پسندی کا وجود نہیں مگر مغربی میڈیا داعش جیسی تنظیم اور انکے دہشت گردوں کو اسلام کے ساتھ جوڑ کر پیش کررہا ہے
حزب اللہ کے جنرل سیکریٹری نے کہا : الکرک میں دھماکے سے اردن کو سبق لینا چاہیے کہ تکفیریوں کی حمایت خود انکے حامیوں کے گلے کی ہڈی بن سکتی ہے.
انہوں نے کہا کہ سب پر واضح ہے کہ کسطرح ترکی نے داعش کی ہرطرح سے مدد کی اور آج ترکی خود اسی آگ میں جل رہا ہے ۔ سید حسن نصرالله نے کہا: «ترکی نے اب تک درس نہیں لیا ہے اور اگرچہ شام میں ترکی داعش سے لڑرہا ہے مگر موصل میں اب تک انکی حمایت میں مصروف ہے». انہوں نے کہا کہ ترکی کو دوگانہ پالیسی چھوڑ کر درست معنوں میں داعش سے لڑنا چاہیے».