ایکنا نیوز- شفقنا- نائیجیریا کی فوج نے دسمبر دو ہزار پندرہ میں شمالی کادونا کے شہر زاریا میں ایک امام بارگاہ پر حملہ کرکے بڑی تعداد میں عزاداروں کو شہید اور زخمی کر دیا تھا جبکہ تحریک اسلامی کے رہنما اور ان کی اہلیہ کو نہایت زخمی حالت میں گرفتار کرکے جیل بند کر دیا-
گزشتہ برس ہی نائجیریا کی ریاست کادونا نے اسلامک موومنٹ آف نائجیریا کو ’سلامتی کے لیے خطرہ‘ قرار دیتے ہوئے اس شیعہ تنظیم پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔
رواں برس اپریل میں حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے نائجیریا کی فوج پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے ان جھڑپوں کے دوران 300 شیعہ مسلمانوں کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے بعد ایک اجتماعی قبر میں دفن کر دیا تھا اور اپنے جرائم کے شواہد مٹانے کی کوشش بھی کی تھی۔
ہیومن رائٹس واچ کے افریقہ میں ڈائریکٹر ڈینیئل بیکیلے کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک ظالمانہ ردِعمل تھا اور بدترین یہ کہ یہ شیعہ اقلیت پر سوچا سمجھا حملہ تھا۔‘
نائجیریا کی فوج کا الزام ہے کہ ملک میں ایران کا حامی فرقہ فوجی سربراہ توکر براتی کو قتل کرنے کی کوشش کر رہا تھا جس کی وہ تردید کرتے ہیں۔
فوج نے کچھ ایسی تصاویر بھی جاری کی تھیں جن میں شیعہ افراد ہاتھوں میں ڈنڈے لیے ہیں جبکہ بعض پتھراؤ کر رہے ہیں۔ لیکن ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ کسی فوجی اہلکار کے زخمی یا ہلاک ہونے کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ہے۔
دوسری جانب سنی گروہ بوکو حرام کے شدت پسند اسلامک موومنٹ آف نائجیریا پر حملوں میں ہزاروں افراد کو ہلاک کر چکے ہیں۔
اسلامک موومنٹ آف نائجیریا کا کہنا ہے کہ فوج نے حملے کے دوران ان کی مقدس زیارت اور ان کے رہنما شیخ ابراہیم کے گھر کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ رہنما شیخ ابراہیم پولیس کی حراست میں ہیں۔مرنے والوں میں تنظیم کے ترجمان اور نائب رہنما شامل ہیں۔
گذشتہ برس مذہبی رسومات کے دوران زائرین اور فوج کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں شیخ ابراہیم کے تین بیٹےبھی شہید گئے تھے۔