ایکنا نیوز- شفقنا خصوصی- عمر پنجابی پاکستانی تکفیری دہشتگردوں کا کمانڈر تھا، جبکہ شام جانے سے قبل وہ سپاہ صحابہ کاکارکن تھا جو بعد میں کالعدم تحریک طالبان کا کمانڈر بن گیا،ذرائع کے مطابق پاکستان کے مدارس اور کالعدم عسکری جماعتوں کے نوجوانوں کو شام لے کرجانے کا کام بھی عمر پنجابی کےسپرد تھا، اطلاعات کے مطابق عمر پنجابی نامی یہ دہشتگرد پاکستان میں لشکر جھنگوی اور کالعدم سپاہ صحابہ سے مسلسل رابطہ میں تھا۔
واضح رہے کہ شام میں اس وقت تقریباً پانچ ہزار سے زائد دہشتگرد سرگرم ہیں جنکا تعلق پاکستانی مدارس، لشکر جھنگوی العالمی، کالعدم سپاہ صحابہ اور کالعدم تحریک طالبا ن ہے۔
مگر حلب میں شکست کے اثرات جہاں پورے یورپ تک محسوس کیے گئے ہیں وہیںپاکستان اس کا سب سے بڑا نشانہ بننے والا ہے۔ حلب سے فرار ہونے والے دہشت گرد واپس پاکستانی راہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ یہ عمل بالکل ایسا ہے جیسے 1979 میں اٍفغان جہاد کے بعد تمام دہشت گرد پاکستان میں واپس بھاگ آئے تھے اور پھر انہوں نے پاکستان کو جہنم بنا دیا ۔
حلب سے فرار دہشت گردوں کے متعلق اس بات کے لیے کسی قیافہ شناسی کی ضرورت نہیں کہ یہ دہشت گرد جیسے ہی فرار ہو کر پاکستان پہنچیں گے یہاںپر دہشت گرد کارروائیوں میںاضافہ ہو جائے گا جس کا سب سے بڑا نشانہ شیعہ کمیونٹی ہو گی۔
پس اب یہ حکومت اور مسلح افواج کی ذمہ داری ہے کہ ان دہشت گردوں کو واپس آنے سے روکے اور پاکستان میں شیعہ کمیونٹی کا تحفظ کرے۔