ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے پروگرام 'نیوز وائز' میں جبران ناصر نے کہا کہ ممتاز قادری کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے واضح کہا گیا کہ توہین مذہب کے قانون میں ترمیم یا اس پر تنقید توہین رسالت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایک جانب شکوہ کرتے ہیں کہ ریاست نفرت انگیز تقاریر کے خلاف کارروائی نہیں کرتی، دوسری جانب توہین مذہب کے کیس میں تکنیکی طور پر شان تاثیر کے خلاف مقدمہ کٹتا ہے گو کہ کیس میں ان کا نام شامل نہیں۔
سماجی کارکن کا کہنا تھا کہ اگر ریاست پر دباؤ کی بات کی جائے تو دباؤ کون ڈالتا ہے؟ دباؤ ہمشیہ وہ طاقتور گروہ ڈالتا ہے جس کے پاس اسلحہ، حکمت عملی یا تعداد زیادہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ اب یا تو حکومت یہ مان لے کہ خاموش اکثریت شدت پسندوں کے ساتھ ہے یا یہ مان لے کہ ان کے پاس اسلحہ، تکنیک یا حکمت عملی ایسی نہیں کہ ہم ان سے لڑ سکیں۔
واضح رہے کہ حال ہی میں کرسمس کے موقع پر مقتول گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے صاحبزادے کو ایک متنازع پیغام کے باعث قتل کی دھمکیاں دی گئیں، اپنے پیغام میں انہوں نے توہین کے قوانین کے تحت مقدمات کا سامنا کرنے والوں کے لیے دعا کی درخواست کی تھی۔
اس حوالے سے شان تاثیر کا کہنا تھا کہ انہیں ممتاز قادری کے حامیوں کی جانب سے قتل کی واضح دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
یاد رہے کہ مقتول گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے سیکیورٹی اسکواڈ میں شامل ممتاز قادری نے 4 جنوری 2011 کو انہیں اسلام آباد کی کوہسار مارکیٹ میں فائرنگ کر کے قتل کیا تھا، جس کے بعد ممتاز قادری کو گزشتہ برس فروری میں پھانسی دے دی گئی تھی۔