ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے پروگرام ' نیوز وائز میں گفتگو کرتے ہوئے تسنیم نورانی نے کہا کہ شمالی علاقوں اور کراچی میں پاک فوج کی جانب سے کئے گئے آپریشن کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں واضح کمی آئی ہے اور شدت پسندوں کے ٹھکانے درہم برہم ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 20 نکات پر وزیر اعظم اور صوبائی وزراء متعلقہ افراد اور اداروں سے باز پرس کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گردی میں ملوث افراد خاص طور پر پر شام اور افغانستان سے واپس آنے والوں پر نظر رکھنی چاہیے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ فورتھ شیڈول کو موثر طریقے سے استعمال ہونا چاہیے۔
تسنیم نورانی نے کہا کہ ’یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ضرب عضب کا اثر کب تک رہتا ہے؟ میرے خیال میں جب تک دہشت گردی کی بنیادی وجوہات پر کام نہیں کیا جائے گا جس کے نتیجے میں آپریشن ضرب عضب جیسے اقدامات کا اثر دیرپا نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی بنیادی وجوہات میں اسکولوں، مدرسوں اور دیہات میں ہونے والی برین واشنگ شامل ہے، اس کے علاوہ حکومت وقت کی جانب سے جہاد کے حوالے سے واضح موقف بھی سامنے آنا چاہیے۔
سابق سیکریٹری داخلہ کے مطابق دیگر مسائل کی طرح ان عوامل پر بھی توجہ نہیں دی جارہی جو عوام کے ذہنوں میں نفرت کا زہر بھر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی تقرری کے بعد تجزیہ کاروں کی جانب سے جنوبی پنجاب کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آخری قلعہ قرار دہتے ہوئے اسے نئے آرمی چیف کے لیے چیلنج قرار دیا گیا تھا۔