
ایکنا نیوز- پریس ٹی وی کے مطابق اقوام متحدہ میں بچوں کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیم نے رپورٹ دی ہے کہ سال ۲۰۱۶ میں اسرائیلی فورسز نے کم از کم پینتیس بچوں کو ہلاک اور ۸۳ دیگر کو زخمی کرچکے ہیں اور تمام ادارے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں جبکہ اسرائیل کسی کو جواب دہ نہیں۔
رپورٹ میں کیا گیا ہے کہ ۱۹ بچوں کی عمریں ۱۶ سے ۱۷ جبکہ ۱۳ دیگر کی عمریں ۱۳ سے ۱۵ سالی کی ہیں۔
مذکور ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ رام اللہ میں صھیونی افیسروں کو خصوصی طور پر بچوں کو مارنے کی تربیت دی جاتی ہے۔
انکا کہنا ہے کہ کوئی ایسا خطرہ درپیش نہ تھا کہ جسکی بناء پر ان بچوں کو مار دیا جاتا مگر اسرائیلی اہلکاروں کو اطمینان حاصل ہیں کہ ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں۔
اکتوبر ۲۰۱۵ سے اب تک کم از کم ڈھایی سو فلسطینی مختلف واقعات میں اسرائیلی فورسز کی فایرنگ سے جان بحق ہوچکے ہیں۔
ہیومن رایٹس واچ کے مطابق اکثر موقعوں پر ان فلسطینوں سے خطرہ نہ ہونے کے باجود ان پر برراہ راست فائر کرکے انہیں ماردیا گیا ہے ۔
فلسطینی باشندوں کے مطابق ایک اسرائیلی فوجی افیسر جو کیپٹن نڈال کے نام سے معروف ہے انہوں نے کھلی دھمکی دی تھی کہ آدھے فلسطینوں کو اپاہج بنا کر چھوڑیں گے اور باقی نصف کو ویل چیر دھکہ دینے کے لیے چھوڑا جائے گا۔