
ایکنا نیوز- نجی ٹی وی جیو کے پروگرام میں وزیر دفاع نے بلواسطہ اس بات کی تصدیق کی تھی کہ جنرل (ر) راحیل شریف دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے بنائے گئے 39 اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد کی سربراہی کریں گے۔
وزیر دفاع کے بیان کے بعد وفاقی حکومت، فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) اور خود جنرل (ر) راحیل شریف کی جانب سے اس بیان کی تصدیق یا تردید سے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
معاملہ سامنے آنے کے بعد سوشل ویب سائٹ ٹوئٹر پر راحیل شریف ٹرینڈ بن گیا جبکہ اس معاملے پر 9 ہزار 500 سے زائد ٹوئٹس کی گئیں۔
ٹوئٹر پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے والے چند سیاستدانوں میں سے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے رہنما اسد عمر بھی ایک تھے، جنہوں نے اس اقدام کو بدقسمتی قراردیا، اسد عمر نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ جنرل راحیل شریف اس فوجی اتحاد کی سربراہی کر رہے ہیں، جس میں پارلیمنٹ نے شمولیت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
مجلس وحدت مسلمین(ایم ڈبلیو ایم) کی جانب سے اس فیصلے پر اپنی ویب سائٹ پر بیان جاری کیا گیا، جس میں پارٹی کے سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اس قدم کو پاکستانی مفادات کے خلاف قرار دیا اور کہاکہ سابق آرمی چیف اس تقرری سے انکار کریں۔
ڈان سے بات کرتے ہوئے کالعدم تنظیم اہل سنت والجماعت کے ترجمان نے کہا کہ راحیل شریف کا دہشت گردی کے خلاف 39 اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد کا سربراہ بننا پاکستان کے لیے اعزاز ہے۔
وفاق میں برسر اقتدار جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کےرہنما لیفٹننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم کا کہنا تھا کہ 39 ممالک کے فوجی گروپ کی سربراہی کرنا ملک کے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم انہوں نے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ فوجی اتحاد کسی ایک ملک یا گروپ کے خلاف ہے۔
واہ کینٹ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگی رہنما نے کہا کہ سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والے فوجی اتحاد میں شمولیت کرنا ہماری مذہبی ذمہ داری ہے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس معاملے کو حتمی شکل دینا ابھی باقی ہے، وزیر دفاع نے جان بوجھ کر اس معاملے پر بات کی ہے،