
ایکنا نیوز- ایکنا کو ملنے والی کاپی کے مطابق شیعه علما کا بیان کچھ یوں هے
بسم الله الرحمن الرحیم
فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَأُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَقَاتَلُوا وَقُتِلُوا لَأُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأُدْخِلَنَّهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ثَوَابًا مِّنْ عِندِ اللَّـهِ وَاللَّـهُ عِندَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ آل عمران/۱۹۵
تین شیعه جوانوں کی پھانسی افسوسناک هے اور اس پر اسلامی دنیا کی خاموشی بھی قابل مذمت هے اور یورپی علما کونسل اس کی مذمت اور جوانوں کے خاندان کی خدمت میں تسلیت پیش کرتی هے
بلاشبه بیگناهوں جوانوں کو پھانسی دینے اور علما و دانشوروں کو جیل میں بند کرکے پست مقاصد حاصل کرنا ممکن نهیں اور آل خلیفه کے اقدامات پر توقع کی جاتی هے که بیدار ضمیر اور عالمی ادارے اس ناانصافی کی مذمت اور عوام کے حقوق کے لیے کردار ادا کریں گے
سلام هو بحرین کی زنده ملت پر جو امن و صلح کے لیے اور اپنے بنیادی حقوق کے لیے ڈکٹیٹر حکمران سے استقامت کے ساتھ مقابله کررهی هے اور اس راه میں اپنے جوانوں اور جگر گوشوں تک کو قربان کررهی هے
و السلام علیکم و رحمة الله و برکاته
جرمنی/ شیعه علما کونسل
قابل ذکر هے که گذشته هفتے کو بحرین میں تین شیعه جوانوں «سامی مشیمع»، «عباس جمیل طاهر السمیع» اور «علی عبدالشهید السنکیس» کو پولیس اهلکاروں کے قتل کے الزام میں پھانسی دی گئی هیں جس پر عوام نے سخت رد عمل کا اظھار کیا هے۔