ایکنا نیو- شفقنا-ملک میں گزشتہ دو دہائیوں سے عوام جن دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہے ہیں، فرقہ وارانہ منافرت بھی اس کی بنیادی وجوہات میں شامل ہے۔ اسی لئے لشکر جھنگوی جو پنجاب کے ایک شہر سے اہل تشیع کے خلاف ابھرنے والا ایک گروہ تھا، اب تحریک طالبان کے ساتھ مل کر پاکستان پر حملے کر رہا ہے۔
اس سے پہلے بھی کوئٹہ میں ہونے والے حملوں میں اس گروہ کا نام سامنے آ چکا ہے۔ اس کے باوجود وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان گزشتہ دنوں اصرار کرتے رہے ہیں کہ فرقہ واریت کو دہشت گردی کے ساتھ نہیں ملایا جا سکتا۔
پارہ چنار میںاب تک ہونے والے حملوںمیں شیعہ مخالف تنظیم لشکر جھنگوی کے ملوثہونے کے ثبوت ملے ہیں کیونکہ کوئٹہ میںپولیس ٹریننگ کیمپ پر حملے کی ذمہ داری بھی اسی گروپ نے قبول کی تھی۔
کرم ایجنسی کے حوالے سے دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ ان لوگوںکی حفاظت کے لیے ہماری سیکورٹی ایجنسیز پر جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ کس حد تک پوری کی جارہی ہے۔
ایک طرف تو یہ لوگ پاکستان کے مذہبی منافرتی گروپوں کی وحشت و بربریت کا شکار ہیںاور دوسری طرف افغان بارڈر ساتھ ہونے کی وجہ سے افغانستان کے دہشت گرد گروہوں کے ظلم و ستم کا نشانہ ہیں۔ ایسی صورتحال میںسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی حفاظت کس کی ذمہ دار ی ہے۔ اور آخر پر چوہدری نثار صاحب سے سوال ہے کہ کیا پارہ چنار میں25 ہلاکتیں دہشت گردی نہیں؟؟؟