ایکنا نیوز- دنیا نیوز کے مطابق اس سلسلہ میں صوبائی حکومتوں سے مشاورت جاری ہے اور مذکورہ آپریشن کی حتمی منظوری نیشنل ایکشن پلان کے حوالہ سے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں دی جائیگی۔ وفاقی حکومت کے ذمہ دار ذرائع نے بتایاکہ بعض سکیورٹی اداروں نے حکومت کو ایسی رپورٹس فراہم کی ہیں کہ کالعدم تنظیموں اور فرقہ وارانہ جماعتوں کے ذمہ داران اب بھی مختلف ناموں کیساتھ زیرزمین سرگرم ہیں اور انکے مکمل قلع قمع تک ملک میں امن واستحکام یقینی نہیں بنایا جاسکتا۔ مذکورہ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیاکہ فوجی عدالتوں کے باعث دہشتگردوں کو انکے انجام تک پہنچانے میں مدد ملی، لہٰذا فوجی عدالتوں کے تسلسل اور توسیع کیلئے حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا پڑیگا۔دوسری جانب قومی سلامتی کے مشیر اور نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمد کے ذمہ دار جنرل(ر)ناصر جنجوعہ نے رابطے پرتصدیق کی کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت بہت سارے اقدامات صوبوں کی مشاورت سے طے کئے گئے ہیں جن پرعملدرآمداعلیٰ سطح کے اجلاس میں وزیراعظم نوازشریف کی منظوری کے بعدہوگا۔
ادھرپنجاب کے وزیر قانون رانا ثنااﷲ کا کہنا تھا جنوبی پنجاب میں دہشتگردی کے مراکز یا دہشتگردی کی سرگرمیاں محض پراپیگنڈا ہے ،تمام مدارس کی مانیٹرنگ اورانکے نصاب کے جائزے کے بعد یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ وہاں نہ تو دہشتگردی کی تربیت دی جاتی ہے اور نہ ہی اب انتہاپسندی وشدت پسندی کی تعلیم سے متعلق شکایات ہیں۔انکاکہناتھا فوجی عدالتوں کوتوسیع تمام سیاسی قوتوں سے مشاورت کے بعدہی ملے گی۔