
ایکنا نیوز- نیوز چینل العالم کے مطبق رایٹرز لکھتا ہے: سلامتی امور کے مشیر «مایکل فلین» کی سرپرستی میں ٹیم نے اخوان المسلمین کو دہشت گردی لسٹ میں شامل کیا ہے
ٹرمپ کے قریبی مشیر کے مطابق اخوان المسلمین کا نام دہشت گردی لسٹ میں حتمی ہے تاہم اسکا جایزہ لیا جارہا ہے
انکا کہنا ہے: فلین نے اس خبرکی تصدیق کردی ہے تاہم اس بات پر غور جاری ہے کہ اس پر امریکی اقدامات کی نوعیت کیسی ہوگی ۔
ٹرامپ کے ایک اور مشیر کے مطابق اخوان المسلمین نے بعض ممالک میں پارٹی میں مثبت تبدیلیاں لائی ہے۔
بہرحال یہ جلد واضح ہوگا کہ اخوان المسلمین کے حوالے سے کس کا موقف برتر ہوگا اور اخوان المسلمین کے بارے میں کیا فیصلہ ہونے والا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس بات سے بھی خوفزدہ ہے کہ اخوان المسلمین پر پابندی اور انکے خلاف اقدامات سے ترکی سے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے جو امریکہ کا اہم حلیف شمار ہوتا ہے
قابل ذکر ہے کہ رجب طیب اروغان کی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی اور تیونس کی برسراقتدار «النهضه» پارٹی دونوں کا اخوان المسلمین کی پارٹی سے گہرا تعلق ہے۔
مصر میں اخوان المسلمین قدیم ترین اسلامی گروہوں میں شمار ہوتا ہے اور سال ۲۰۱۳ سے اسکو دہشت گرد گروہ قرار دیا گیا ہے