‘ایکنا نیوز- شفقنا کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے آفس سے جاری رپورٹ میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف گزشتہ سال 10 اکتوبر سے شروع کیے جانے والے ملٹری کریک ڈاؤن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’علاقے کے کلیئرنس آپریشن کے نتیجے میں ممکنہ طور پر سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔
یہ رپورٹ 204 روہنگیا مہاجرین کے انٹرویوز کی بنیاد پر مرتب کی گئی، جنہوں نے اپنی جانیں بچانے کے لیے بنگلہ دیش میں پناہ لی۔
انسانی حقوق آفس کی جانب سے رپورٹ سے متعلق جاری پریس ریلیز میں عینی شاہدین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’5 سیکیورٹی افسران نے 8 ماہ کے بچے کو ہلاک جبکہ اس کی ماں کو گینگ ریپ کا نشانہ بنایا۔
اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ اس کے پاس چھ سال یا اس سے کم عمر 3 بچوں سے متعلق یہ رپورٹس بھی ہیں کہ ان کا چُھریوں کے ذریعے گلا کاٹا گیا۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ زید بن رعد الحسین نے اپنے بیان میں کہا کہ ’اس ظالم شخص کے خلاف کتنی نفرت پائی جاتی ہوگی جس نے ماں کے دودھ کے لیے بلکتے بچے کو چھرا گھونپ کر قتل کیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کس طرح کا کلیئرنس آپریشن ہے؟ اور اس سے قومی سلامتی کے کونسے مقاصد حاصل ہوں گے؟‘
اقوام متحدہ کی رپورٹ مرتب کرنے کے لیے جن لوگوں کے انٹرویو کیے گئے ان میں سے 47 فیصد افراد ایسے تھے جن کے خاندان کا کم از کم ایک فرد اس ’آپریشن‘ میں ہلاک ہوا، جبکہ 43 فیصد کو ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔
واضح رہے کہ کلیئرنس آپریشن کے نام پر ریاست رکھائن میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کا سلسلہ 9 اکتوبر کو سرحدی محافظوں کی پوسٹوں پر حملے کے بعد شروع ہوا تھا۔
خیال رہے کہ میانمار، جسے برما بھی کہا جاتا ہے، میں بدھ مت مذہب کے ماننے والوں کی اکثریت ہے، روہنگیا کے مسلمان کئی دہائیاں قبل ہجرت کرکے بنگلہ دیش سے میانمار پہنچے تھے، میانمار کے لوگ ان کو بنگالی تسلیم کرتے ہیں۔
روہنگیا لوگوں کی بہت بڑی تعداد میانمار کی مغربی ریاست راکھائن میں رہائش پذیر ہے، 10 لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل روہنگیا لوگوں کو بنگلہ دیش کے لوگ برمی مانتے ہیں۔
بنگلہ دیش اور برما کے درمیان تنازع کا سبب رہنے والے روہنگیا لوگوں پر ظلم و ستم کے حوالے سے گزشتہ چند سالوں سے خبریں منظر عام پر آتی رہی ہیں جس کے باعث روہنگیا افراد مسلسل بنگلہ دیش کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ، ہیومن رائٹس واچ، امریکا سمیت کئی ممالک نے روہنگیا لوگوں کی دن بہ دن بگڑتی ہوئی حالت پر تشویش کا اظہار کیا ہے، لیکن میانمار حکومت تمام الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔