
ایکنا نیوز- زیمبابوے کی «حراره» یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کے استاد حجتالاسلاموالمسلمین یحیی جهانگیری نے ایکنا نیوز سے گفتگو میں ڈونالڈ ٹرمپ کے فیصلے کے حوالے سے کہا : امریکی حکام کے دعوے جنمیں وہ انسانی حقوق اور دوسروں کے احترام و لحاظ کی باتیں کرتے ہیں صرف دکھاوے ہیں
جهانگیری نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد سے مختلف ممالک میں اسلام مخالف باتیں اور مسلمانوں کی مساجد کو جلانا عام ہوچکا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے نام پر امن پسند ممالک پر پابندی جبکہ سعودی عرب جو دہشت گردی کا سرچشمہ ہے اسکا نام لسٹ میں قرار نہ دینا بہت سے سوالات پیدا کرنے کا سبب بنا ہے اور یقینا اس کا نقصان امریکہ کو زیادہ ہوگا۔
جهانگیری نے مزید کہا کہ اکثر ممالک کے عوام منفی نہیں سوچتے اور وہ ایران کا ایک برادر اور اسلامی ملک قرار دیتے ہیں۔
انکے مطابق دنیا بھر میں احتجاجات اور سوشل میِڈیا پر عوام نے ٹرمپ سے بیزاری کا اظھار کیا ہے جبکہ ایران کا مثبت کردار سبکے سامنے ہے۔
قابل ذکر ہے کہ حجتالاسلاموالمسلمین یحیی جهانگیری جامعة المصطفی(ص) العالمیه ، جامعة الزهرا(س) اور سویڈن میں اسلامی امن و صلح مرکز کے استاد اور جاپانی حلال کمپنی «حلال سیلکرود» کے ایڈوایزر کے طور پر خدمات انجام دیں رہے ہیں۔