ایکنا نیوز- ایکسپریس نیوز کے مطابق اجلاس کے شرکا نے ملک میں دہشت گردی اورانتہا پسندی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اظہار کیا جب کہ دہشت گردوں اور ان کے نظریات کو کچل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں سیاسی و عسکری قیادت میں اتفاق کیا گیا کہ دہشت گردوں کو کسی صورت سر اٹھانے نہیں دیں گے اور انہیں دوبارہ پنپنے نہیں دیا جائے گا۔
اجلاس کے شرکا کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف فورسزاورعوام نے بڑی قربانیاں دی ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف فورسز کی قربانیوں کو ضائع نہیں ہونے دیں گے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کرایے کے چند قاتلوں کو مار کر امن کا قیام ممکن بنایا جاسکتا ہے جب کہ ان کے سہولت کار اور نظریاتی فیکٹریاں شب و روز ملک میں شدت پسندانہ افکار کی ترویج میں سرعام مدارس و مساجد میں مصروف عمل ہیں ؟