ایکنا نیوز- یکسپریس نیوز کے مطابق گزشتہ روز سیہون شریف میں لال شہباز قلندر کے مزار میں ہونے والے دھماکے کے بعد پولیس نے مزار زائرین کے داخلہ کے لیے بند کردیا، وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی آمد کے پیش نظر علاقے میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تاہم مزار کے باہر زائرین کی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے داخلے کی اجازت نہ ملنے پر مظاہرہ کیا، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی جس پر مظاہرین مشتعل ہوگئے اور انہوں نے توڑ پھوڑ کی اور پولیس موبائل کو آگ لگادی
مظاہرین سے خطاب کرتے ہویے مجلس وحدت کے رہنما علامہ مقصوڈ ڈومکی نے حکومتی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس طرح کے رویوں سے دہشت گردوں کو حوصلہ ملا ہے ۔

قابل ذکر ہے کہ صوفی بزرگ لعل قلندر شہباز کو نہ صرف سندھ بلکہ پاکستان سمیت خطے بھر میں منفرد حیثیت حاصل ہے اور ان کے عقیدت مند ہندوستان، ایران اور افغانستان سمیت دیگر ممالک تک پھیلے ہوئے ہیں۔
گذشتہ روز بدترین خودکش دھماکے کا نشانہ بننے والا قلندر لعل شہباز کا مزار سندھ کے شہر سیہون میں واقع ہے، جسے تحصیل کی حیثیت حاصل ہے، یہ شہر جغرافیائی لحاظ سے ایسی جگہ واقع ہے، جہاں دور دور تک کوئی بڑا شہر واقع نہیں، جب کہ اس شہر کو اتنی سہولیات بھی حاصل نہیں ہیں کہ وہ کسی بھی ہنگامی حالات میں اپنا دفاع کر سکے۔
