IQNA

10:32 - March 12, 2017
خبر کا کوڈ: 3502657
بین الاقوامی گروپ: سپاہی کے بھیس میں کامران کالعدم تکفیری تنظیم کا کمانڈر تھا۔ حادثے کے دن خود گاڑی میں بم فٹ کروایا مگر اپنے بچھائے جال میں خود پھنس گیا۔

ایکنا نیوز- شفقنا- بہادري کيا ہوتي ہے،نڈر سپاہي کيسا ہوتا ہے۔ اِن سوالوں کے جواب کيلئے چوہدري اسلم کا نام ہي کافي ہے۔ دہشت گردوں کا شکار کرنیوالا دبنگ افسر دھوکے کا شکار ہوگیا۔ پولیس کے "میر جعفر” نے چوہدری اسلم کا پتہ صاف کیا۔ وہ چوہدري اسلم ہي تھے جو زندگي کے آخري سفر پر نکلنے سے پہلے اپني اہليہ کو يہ کہہ کر گئے تھے چوہدري تو گيا۔

سفید کڑک دار کاٹن کا لباس، ایک ہاتھ میں سگریٹ دوسرے میں گلوک پستول،سترا سال جس کے نام سے دہشت گرد کانپتے رہے، وہ پولیس کا ایس پی چوہدری اسلم تھا۔جہاں جاتا،دھوم مچادیتا۔ کراچی آپریشن ہویالیاری میں مسلح جتھوں سے دو بدو لڑائی،اس نے ہار نہیں مانی،جو ٹکرایا زندہ نہ بچ پایا۔

جنوری دوہزار تیرا کی شام وہ گھر سے نکلا مگر واپس نہ آیا۔لیاری ایکسریس وے پر چوہدری کی ڈبل کیبن خوفناک دھماکے سے لوہے کا ڈھیر بن کر رہ گئی۔

تفتیش کا قلم حرکت میں آیا تو واقعہ خودکش حملہ قرار پایا۔بدلے میں کالعدم تنظیم کے درجن سے زائد دہشت گرد پھڑکا دیے گئےاور پھر فائل نیچے دب گئی۔

لیکن اس ماہ جو ہوا، اس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ کورنگی میں راجہ عمر خطاب نے مقابلے میں کالعدم تنظیم کے سرگرم رکن دلدار چاچا کو مارڈالا۔پکڑے گئے چار ساتھیوں نے جو بتایا اس نے سب کی آنکھیں کھول دیں۔

انکشاف ہواکہ چوہدری اسلم کو خودکش حملہ آور نے نہیں بلکہ خود اس کے ڈرائیور کامران نے راستے سے ہٹایا۔ سپاہی کے بھیس میں کامران کالعدم تنظیم کا کمانڈر تھا۔ حادثے کے دن خود گاڑی میں بم فٹ کروایا مگر اپنے بچھائے جال میں خود پھنس گیا۔وہ بہانہ کرتا رہا مگر چوہدری نے اسے ساتھ بٹھا لیا یوں کامران بھی ساتھ ہی ختم ہوگیا۔رخ بدلا تو پولیس نے کامران کی بیوی اور بھائیوں کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کردی۔ کامران کی بیوی کے بینک کھاتوں سے پتہ چلا کہ اسے کروڑوں روپے ملے۔

 محکمے نے کامران کو شہید جان کر ایک کروڑ روپے دیے تھےلیکن اس معاملے کی چھان بین کرنے والے ایڈیشنل آئی جی ثنا اللہ عباسی کو اس کہانی پر یقین نہیں۔

کامران غدار تھا یا بے گناہ،پولیس نے گتھی سلجھانے کی سرتوڑ کوششیں شروع کردی ہیں۔ لیکن سرا اتنی آسانی سے ملتا دکھائی نہیں دیتا۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: