IQNA

14:46 - March 25, 2017
خبر کا کوڈ: 3502714
بین الاقوامی گروپ: پولیس نے لندن میں پارلیمنٹ کے باہر حملہ کرنے والے خالد مسعود کو برطانوی شہری قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ ۔دہشتگرد کے والدین افریقہ سے برطانیہ آئے تھے وہ سعودی عرب میں انگریزی کا ٹیچر رہ چکا تھا۔
ایکنا نیوز-مہر خبررساں ایجنسی نے بی بی سی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ برطانوی پولیس نے پارلیمنٹ کے باہر حملہ کرنے والے خالد مسعود کو برطانوی شہری قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ ۔د ہشتگرد کے والدین افریقہ سے برطانیہ آئے تھے،خالد نے دوران قید اسلام قبول کیا اور پاکستانی خاتون فرزانہ ملک سے شادی کی مگر پھر دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔  خالد حملے سے پہلے ہوٹل میں مقیم تھا۔ حملے کے بعد مختلف مقامات پر چھاپے مار ے گئے، 2 افراد زیر حراست ہیں جبکہ دیگر کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

لندن پولیس نے پارلیمنٹ کے باہر حملہ کرنے والے خالد مسعود کی تصاویر جاری کردی ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے پیچھے ملزم کے مقاصد اور اس کے ممکنہ ساتھیوں کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ پولیس کی جانب سے چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعے کے روز مانچسٹر سے ایک خاتون سمیت دو افراد جبکہ برمنگھم سے ایک شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اب تک گیارہ افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا جا چکا ہے۔ جبکہ ابتدائی تفتیش کے بعد برمنگھم اور ہاکلے سے گرفتار چھ افراد کو رہا کردیاگیا ہے۔

خالدمسعود کے دوستوں کا کہنا تھا کہ اسکول کے دنوں میں اسے مذہب سے کوئی دلچسپی نہیں تھی تاہم اسلام قبول کرنے کے بعد اسے سعودی عرب میں بطور انگریزی ٹیچر نوکری ملی تھی جس کے بعد وہ عملی طور پر وہابی بن گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تمام دہشت گرد وہابی ہیں اور وہابیوں کا مرکز سعودی عرب اور آل سعود ہیں جو اسلام کی آڑ میں اسلام کو چوٹ پہنچا رہے ہیں اور جو یزید اور بنی امیہ کے نقش قدم پر گامزن ہیں۔
نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: