
ایکنا نیوز- چوبیسویں قرآنی مقابلوں کی افتتاحی تقریب اس حال میں منعقد کی گیی کہ مصری وزارت اوقاف نے قرآنی امور کو بھی سیاست کی نذر کرتے ہوئے ایران اور ترکی و قطر کو مسلسل تیسری بار ان مقابلوں میں دعوت دینے سے گریز کیا ہے
زرائع کے مطبق قطر اور ترکی کو مصر میں اخوان المسلمین کی حمایت کی وجہ سے دعوت نہیں دی گیی ہے مگر ایران کے حوالے سے معلوم نہیں ہوسکا کہ انکو دعوت کیوں نہیں مل سکی ہے گرچہ ایران کی پالیسی کو مصر مخالف قرار دیا جاتا ہے۔
دوسری جانب ایران میں ہر سال مصری قاریوں کو مقابلوں میں باقاعدگی سے دعوت دی جاتی ہے کیونکہ ایران کو موقف ہے کہ مقدس کتاب کے حوالے سے سیاسی فیصلے مناسب نہیں ۔
قابل ذکر ہے کہ مصری عوام میں ایرانی قرآء بہت پسند کیے جاتے ہیں اور بلاشبہ انکی شرکت سے مقابلوں کا معیار بلند ہوسکتا تھا۔
مصری اخبار«عربی 21» نے اس اقدام پر تعجب کا اظھار کیا ہے اور لکھتا ہے کہ ایران اور ترکی و قطر کو دعوت تو نہیں ملی مگر امریکہ، روس، ھندوستان ، برما اور یوکراین کو دعوت مل جاتی ہے.
مصر کے قرآنی مقابلوں کی افتتاحی تقریب سے وزیر اوقاف جمعہ مختار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقابلوں میں تفیسر کے علاوہ سیمینار بھی منعقد کیا جائے گا جسمیں قرآنی حوالے سے شدت پسندی کے مضمرات پر اظھار خیال کیے جائیں گے۔
مقابلوں میں قرآن فھمی اور تجوید و حفظ کے مقابلے شامل ہیں جبکہ جوانوں اور نوجوانوں کے الگ الگ مقابلے منعقد ہوں گے۔