'انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے علماء کا کردار ضروری'

IQNA

'انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے علماء کا کردار ضروری'

15:34 - April 18, 2017
خبر کا کوڈ: 3502833
بین الاقوامی گروپ: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عارف علوی نے کہا ہے کہ ملک سے انتہا پسندی کو ختم کرنے کے لیے علماء کرام کو اولین کردار ادا کرنا ہوگا۔

ایکنا نیوز-ڈان نیوز کے پروگرام 'نیوز آئی' میں گفتگو کرتے ہوئے عارف علوی نے کہا، 'بدقسمتی سے ہمارے یہاں مذہب کا غلط استعمال ہورہا ہے، لیکن وہ لوگوں جنھیں اس پر بات کرنی چاہیئے خاموش نظر آتے ہیں'۔

انھوں نے کہا کہ 'ہمارے ملک میں توہینِ رسالت کا قانون موجود ہے اور سب یہی بات کرتے ہیں کہ جس کسی نے گستاخی کی اسے موت کی سزا دی جائے، لیکن کوئی باہر نکل کر یہ آواز بلند نہیں کرتا کہ کسی الزام کی تفتیش کرنا بھی نہایت ضروری ہے'۔

پی ٹی آئی رہنما نے واضح کیا کہ کوئی مذہب، کوئی قانون اور کوئی ریاست اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ہجوم کی شکل میں کوئی فیصلہ کیا جائے۔

پروگرام میں موجود مذہبی اسکالر جاوید احمد غامدی نے بھی علماء پر زور دیا کہ وہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے سامنے آئیں اور لوگوں کے ذہنوں سے نفرت کو دور کریں۔

انھوں نے کہا کہ 'جب تک علماء اپنی تقاریر میں ایک دوسرے پر تہمتیں لگاتے رہیں گے، معاشرے سے اس برائی کو ختم نہیں کیا جاسکتا، لیکن کسی بے گناہ کے ساتھ ایسا کرنا اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت نہیں، بلکہ بغاوت ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں اس طرح کی سوچ اور واقعات کی ایک بنیادی وجہ ہمارے یہاں قوانین کی کمزوری بھی ہے، کیونکہ وہ لوگ جو اس کے مرتکب ہوتے ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔

جاوید احمد غامدی نے کہا کہ مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم 'مشعال خان کو جس بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا وہ کسی صورت بھی جائز نہیں اور اگر فرض کریں کہ الزام درست بھی ہو تب بھی کسی کو حق نہیں کہ وہ کسی کی جان لے'۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاست اس سلسلے میں خاموش نظر آتی ہے، کیونکہ وہ علماء سے خوف محسوس کرتی ہے اور اگر کوئی اقدام کیا گیا تو حکومتی اقتدار کو خطرہ ہوسکتا ہے، لہذا اسی لیے حکومت اس پر بات ہی نہیں کرتی۔

انھوں نے حکومت اور تمام سیاستدانوں سے کہا کہ وہ اس معاملے میں ڈر اور خوف کو ختم کرکے آگے بڑھیں تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات سے بچا جاسکے۔

نظرات بینندگان
captcha