
ایکنا نیوز- روزنامه المصریون کے مطابق تیونس کے صدر «باجی قائد سبسی» کی واضح غلطی نے انکے پروگرام کو شدید بدنظمی سے دوچار کردیا۔
انہوں نے اپنے خطاب کے آغاز میں آیت ۸۰ سوره اسراء «وَقُل رَّبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَل لِّي مِن لَّدُنكَ سُلْطَانًا نَّصِيرًا: اور کہو میرا رب [ہر کام میں] مجھے درست طریقے سے داخل اور خارج کر اور اپنی جانب سے میری سرپرستی اور مدد کر، کے بعد کہا «وقل جاء الحق وزهق الباطل إن الحق كان زهوقا» حالانکہ اسکے بعد کیا گیا ہے کہ «إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا: باطل نابود ہونے والا ہے»(۸۱ اسراء)
قابل ذکر ہے کہ تیونس جو ان دنوں بحران کا شکار ہے وہاں کی عوام توقع کررہی تھی کہ صدر مملکت اپنی تقریر سے انہیں حوصلہ اور امید دیں گے مگر صدر نے دھمیکوں سے حالات مزیدہ پیچیدہ بنادیا ہے اور عوامی اعتراضات اور کا دایرہ پھیلنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔