
ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے «RFA» کے مطابق شدت پسندی سے مقابلے کے نام پر قرآنی نسخوں کی جمع آوری شروع کی گیی ہے
کاشغر شہر کے آس پاس دیہاتوں میں تمام پرانے قرآنی نسخے جمع کیے جاچکے ہیں ۔
شدت پسندی روکنے کے نام پر مذکور اقدام کیا گیا ہے ۔
ایغور کے مسلمانوں نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی رایے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ایغور کے مسلمانوں کے گھروں پر حملے ، انکی عبادت میں رکاوٹ ڈالنا سین کیانگ میں معمول بن چکا ہے ۔
اگرچہ چینی حکام ایغور میں مسلمانوں کو دہشت گردانہ واقعات کے ذمہ دار ٹھرا رہے ہیں مگر ماہرین کے مطابق چینی حکومت کے شدت پسندانہ اقدامات کو بحران اور مسایل میں اہم عامل قرار دیتے ہیں جنکے نتیجے میں سینکڑوں لوگ ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔