ایکنا نیوز- شفقنا -رپورٹ کے مطابق، طالبان نے چپرہار میں داعش کے ایک ٹھکانے پر حملہ کیا تھا جس کے بعد دونوں گروہ میں تصادم ہوگیا اور نتیجہ میں داعش کو کئی گاؤں خالی کرنے پڑگئے۔
مگر بعض مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ جیسے ہی طالبان نے داعش کے ٹھکانے پر حملہ کیا امریکی فوج کی بکتر بند گاڑیاں اور ہیلی کاپٹرز جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور فوجی آپریشن شروع کردیا جس کے نتیجے میں داعش کو پیشروی کا موقع مل گیا۔
واضح رہے کہ طالبان اس وقت امریکی فوج، افغان سکیورٹی فورسز اور داعش کے دہشتگردوں سے جنگ کررہے ہیں اور جنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
خبروں کے مطابق طالبان نے اچین میں بھی داعش کے ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا مگر اسے امریکی فائٹرز کے حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
اس سلسلے میں افغان حکّام نے اب تک کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ اور اس حملے کے نقصانات کی بھی تفصیلات ابھی منظر عام پر نہیں آئی ہیں۔
اس سے پہلے بھی پارلیمنٹ میں ننگرہار کے نمائندے ظاہر قدیر نے اعلان کیا تھا کہ سپین جومات میں جب طالبانیوں نے داعش کے ٹھکانوں پر حملہ کرکے اس کا محاصرہ کرلیا تھا تو امریکی طیاروں نے طالبان پر حملہ کرکے محاصرہ توڑ دیا تھا تاکہ داعش کو نجات دلائی جاسکے۔
کئی بار افغان حکّام امریکی فوج پر افغانستان میں داعش کی حمایت اور پشت پناہی کا الزام عائد کرچکے ہیں۔