
ایکنا نیوز- داعش کے سربراہ کے مرکز اور نوری مسجد پر قبضے کے ساتھ ہی موصل کے اہم علاقے پر فورسز نے قبضہ کرلیا ہے ۔ نوری مسجد وہ جگہ ہے جہاں البغدادی نے اپنی خود ساختہ خلافت کا اعلان کیا تھا
داعش نے فرار ہوتے ہوئے اس مسجد کو بھی بارود سے شہید کردیا جبکہ اس علاقے پر اب عراقی فورسز نے قبضہ مکمل کرلیا ہے
اس علاقے پر قبضے کے ساتھ ہی کہا جاسکتا ہے کہ موصل کو داعش سے چھڑا لیا گیا ہے اگرچہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ داعش سے اب کوئی جنگ نہ ہوگی ۔
عراقی وزیر اعظم العبادی نے داعش کے قبضے سے موصل کی آزادی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس شہر کو دہشت گردوں کے ناپاک وجود سے پاک کرلیا گیا ہے
حیدرالعبادی نے کہا کہ نوری مسجد کی آزادی کے ساتھ ہی موصل پر قبضہ مکمل ہوچکا ہے اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی ۔
وزارت دفاع نے بھی شہر موصل کی آزادی کی خبر کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس محلے میں دو سو دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا جاچکا ہے۔
عراقی حکام نے بھی نوری مسجد پر قبضے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موصل داعش سے پاک ہوچکا ہے۔
وزارت دفاع نے واضح کیا ہے کہ اب موصل کا کوئی علاقہ داعش کے پاس نہیں رہا ہے البتہ مکمل پاک سازی کا عمل جاری رہے گا۔
مسجد تاریخی النوری کو داعش کی مقاومت کا آخری قلعہ قرار دیا جارہا تھا اور شکست کو دیکھتے ہوئے داعش کے دہشت گردوں نے اس مسجد کو بھی شہید کردیا ہے۔