
ایکنا نیوز- روزنامه «ڈیلی صباح» کے مطابق دس سالوں سے مذکورہ میوزم چار سو قدیم قرآنی نسخوں کے ساتھ سیاحوں کے لیے اہم مرکز کے طور پر خدمات پیش کررہا ہے
قرآنی نسخے سلجوقی اور عثمانی دور سے متعلق بتایے جاتے ہیں اور سالانہ تیس ہزار سیاح ان نسخوں کو دیکھنے اس میوزیم کا دورہ کرتے ہیں ۔
میوزیم کے ڈایریکٹر عیسی گوون کا کہنا ہے کہ یہ نسخے ۱۰۰ سے ۷۰۰ سال پرانے ہیں اور اسکی جمع آوری کے لیے بہت سے کاوشیں ہوئی ہیں۔
گوون کا کہنا ہے : ہم غازی انتب اور آناتولی کی ثقافتی میراث کو نسل جدید کے لیے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں ۔
انکا کہنا تھا کہ مولوی فاونڈشین اور میوزیم میں سب سے زیادہ پرانے قرآنی نسخے موجود ہیں اور اسکی حفاظت کے لیے کام جاری ہے ۔