
ایکنا نیوز- خبررساں ادارے « freep» کے مطابق مقامی عدالت کے جج " گرشوینڈرین" نے مسجد تعمیر کی درخواست کی مخالفت کی جسکو مقامی آبادی نے خوب سراہا ہے
قاضی ڈرین کا کہنا تھا: اس مسجد کی تعمیر کی درخواست کی حمایت بہت مشکل ہے اور لوگ اس کو ویلکم نہیں کریں گے۔
مسجد کی مخالفت زیادہ تر عراقی نژاد عیسایی آبادی کررہی ہے اور انکا دعوی ہے کہ یہ جگہ تجارتی اور رہایشی اسکیم سے متعلق ہے۔
ڈیٹرویٹ کے مسلمان آبادی کے وکلاء کا کہنا ہے کہ آزادی مذہب کی آزادی کے حوالے سے یہاں کے لوگوں کا حق بنتا ہے لپ اپنی عبادت کے لیے مسجد تعمیر کریں اور اسکے لیے کاوشیں جاری رہیں گی ۔