
ایکنا نیوز- خبررساں ادارے « thisisoxfordshire» کے مطابق اٹھارہ مہینے کی تحقیق جسمیں مسلمانوں کو معاشرے میں گھل ملانے کا جایزہ لیا گیا اس میں آکسفورڈ کے سابق میر نے تجویز پیش کی ہے کہ اسلامی انجمنوں اور مساجد زمہ داروں کی شرکت کے ساتھ نشستیں منعقد کی جائے۔
اس تحقیق میں تجویز پیش کی گیی تھی کہ مساجد کے اماموں کا انتخاب سرکاری طور پر کیا جائے اور ان افراد کو امام بنایا جائے جو برطانیہ میں پیدا ہوا ہو اورانگریزی زبان پر مکمل تسلط رکھتا ہو۔
الطاف خان کے مطابق بہت سے مساجد میں اس تجویز پر عمل درآمد شروع ہوچکا ہے البتہ بہت سی تنظیمیں اب بھی مسجدوں سے دور مقامات پر الگ محافل منعقد کرتی ہیں جنکو ساتھ ملانے پر کام کیا جارہا ہے۔
انکا کہنا ہے کہ مساجد کے امام ، سیاست دان، دانشور اور دیگر گروپوں کی زمہ داری ہے کہ ملکر کام کرنے کو یقینی بنائیں۔