سعودی شدت پسندی سے شمالی یورپ میں دہشت گردی کے خطرات

IQNA

سعودی شدت پسندی سے شمالی یورپ میں دہشت گردی کے خطرات

13:22 - July 08, 2017
خبر کا کوڈ: 3503241
بین الاقوامی گروپ: دنیا کے مختلف حصوں میں سعودی شدت پسندانہ افکار سے دہشت گردی میں اضافہ ہورہا ہے اور شمالی یورپ کے ممالک میں بھی اسکے خطرات منڈلانے لگے ہیں

سعودی شدت پسندی سے شمالی یورپ میں دہشت گردی کے خطرات


ایکنا نیوز- شمالی یورپ کے ممالک فن لینڈ، ناروے،سویڈن، آیسلینڈ(اسکانڈیناوی) ممالک جو امن کا گہواہ سمجھا جاتا ہے انکو بھی وہابی خطرات سے خوف محسوس ہونے لگا ہے

روسی نیوز ایجنسی«اسپوٹنیک» کے مطابق یورپ کے بہت سے ممالک میں سعودی سے بڑھتے تعلقات سے خوف محسوس ہونے لگا ہے اور شاہ سلمان کے جارحانہ اقدامات پر بہت سے ممالک نے تحفظات کا اظھار کیا ہے۔

(اسکانڈینیا) کے ممالک سعودی عرب کو سنگین اسلحوں کے فروخت سے پریشانی محسوس کررہے ہیں جبکہ سعودیہ ایران کی مخالفت کے نام پر ہر روز اسلحوں کے انبار لگارہا ہے.


دوسری جانب سعودی عرب بھی اسلامی مراکز اور مساجد کے نام پر مختلف ممالک میں شدت پسندانہ وہابی افکار کی ترویج میں مصروف ہے ۔

سرکاری میگزین «عین‌الیقین» کے مطابق سال ۲۰۱۲ کو ملک فهد فاونڈیشن نے یورپ ، امریکہ اور ایشاء کے مختلف ممالک میں ۲۱۰ اسلامی مرکز، ۱۵۰۰ مساجد اور ۲۰۲ مدرسه در قاره‌های اروپا، آسیا، اقیانوسیه و آمریکا کمک کرد که منابع مالی آن به طور کامل، یا بخش عمده‌ای از آن، توسط حکومت عربستان تأمین شده بود مدرسہ تعمیر کیے۔

جرمن مطالعاتی مرکز کے استاد «جیمز ڈورسی» سعودیہ شدت پسندی کے حوالے سے لکھتا ہے : سعودی عرب گذشتہ پچاس سالوں میں ۱۰۰ ارب ڈالر وہابی افکار کی ترویج کے لیے خرچ کرچکا ہے

سویڈن میں کالم نویس «کارین رباس» کا کہنا ہے کہ سویڈن میں سعودی اور قطر کی جانب سے تعمیر کیے گیے مساجد ہماری مشکلات میں اضافے کا سبب ہے

دیگر مختلف میگزین اور سرکاری حکام بھی متعدد بار یورپ میں وہابی دہشت گردی کے خطرات کے حوالے سے تحفظات کا اظھار کرچکے ہیں

یورپی حکام اور دانشور اس بات پر متفق ہیں کہ داعش جیسی تنظیم وہابی تنگ نظری کا نتیجہ ہے جو اپنے علاوہ سب کو ناحق قرار دیتا ہے

جرمن حکام کے مطابق کویت، قطر اور سعودی فنڈڈ اداروں کی وجہ سے ملک میں دہشت گرد پیدا ہورہے ہیں۔

برطانیہ میں بھی اس بات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ سلفی افکار سے شدت پسند افراد ملک میں پیدا ہورہے ہیں۔

عجیب بات یہ ہے کہ ایک طرف اکثر یورپی ممالک سعودی عرب کو انسانی حقوق اور عورتوں کے حقوق کے حوالے سے مجرم قرار دیتا ہے مگر یہ سعودیہ انسانی حقوق کے علمبرار بھی قرار دیا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ میں انسانی کمیشن کے سربراہ «هیلل نویر» نے اس حوالے سے طنزیہ بیان میں کہا کہ اسکی مثال ایسی ہے جیسے ایک آگ لگانے والے مجرم کو پکڑ کرفایربریگیڈ کا سربراہ مقرر کیا جایے۔

3616013

نظرات بینندگان
captcha