
ایکنا نیوز- آج دنیا کے اکثر ممالک میں جہاں کہیں دہشت گردی ہوتی ہے وہاں بلا فاصلہ فورا اسکا الزام مسلمانوں پر تھوپ دیا جاتا ہے ، اسی دہشت گردی اور ظلم و ستم کی وجہ سے اکثر اسلامی ممالک میں بدترین سیکورٹی مسایل کی بناء پر لاکھوں لوگ یورپ کے مختلف شہروں میں ہجرت کرچکے ہیں اگرچہ ان دہشت گردی کی اہم وجوہات میں سے مغربی ممالک کی حکومتوں کی مداخلت قابل ذکر ہے ۔
ان ہی ممالک میں اسلام فوبیا کے حوالے سے بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ، اسی حوالے سے بچوں کے حقوق کی تنظیم کی رکن " لینڈا تافت" نے ایکنا نیوز سے گفتگو میں یورپ میں بچوں کی شکایات کے حوالے سے خیالات کا اظھار کیا ہے۔
انکا کہنا ہے کہ بچوں کی ہاٹ لاین پر شکایات میں داعش کے یورپ میں حملوں کے بعد تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور مخصوصا مسلمان بچوں کو توہین آمیز الفاظ کے ساتھ نشانہ بنایا جاتا ہے یا بچیوں کے سرسے حجاب اتار کر انکی تذلیل کی جاتی ہے
لینڈا تافت کے مطابق حالیہ سالوں میں بچوں کی شکایات میں دگنا اضافہ ہوا ہے اور مسلمان بچوں کو نسلی اور مذہبی تعصب کا نشانہ بنانا معمول بن چکا ہے۔
انکا کہنا ہے کہ گذشتہ سال ننانوے بچوں نے فون کرکے شکایات درج کی ہیں اور یہ افسوسناک امر ہے کہ بچے جو ان مسایل سے لاتعلق ہیں انکو تعصب و تشدد کا ہدف بنایا جاتا ہے جو معاشرے کی روایات کے مکمل منافی ہیں۔
انہوں نے مثال پیش کرتے ہویے کہا کہ مانچسٹر واقعے کے بعد ایک بارہ سال کے بچے نے فون کیا اور کہا کہ آج مجھے سخت الفاظ سے بہت دکھ پہنچایا اگرچہ میرا کیا قصور ہے میں نے کیا کیا ہے وہ لوگ کیوں ایسے غلط فیصلے کرتے ہیں کہ میں ایک مسلمان ہوں تو دہشت گرد بھی ہوں۔