
ایکنا نیوز- ای اخبار الحیات کے مطابق سات مصری خواتین ماہرین (نجوی سید، وداد، اسماعیل، امل، محمد، شیما، مصطفی، ندی، محمد، رانیا ابراهیم اور وسام مصطفی) اور امریکہ کے ماہر«جان ممفرد» اور انجمن «المکنز الاسلامی» قدیم قرآن جو عثمان بن عفان کے دور سے بتایا جاتا ہے کی مرمت مکمل کی گیی ہے۔
سال ۱۸۷۰ مصر کی مسجد عمرو بنعاص سے ملنے والے نسخے کی حالت بہت خراب تھی اور جدید ٹیکنالوجی اور ماہرین کی خدمات لینے کے بعد چھ سال کے عرصے میں اس قرآن کی از سرنو مرمت کی گیی ہے۔
قرآن کی چوڑایی اکسٹھ سینٹی میڑ، لمبایی ۵۴ اور بلندی ۱۵ سینٹی میڑ ہے جبکہ ہرن کی کھال پر قرآن کی کتابت کی گیی ہے۔
ماہرین کی لیڈر محترمہ نجوی السید کا کہنا ہے کہ نسخے کے کچھ صفحات موجود نہ تھے اور بہت ماہرانہ انداز میں اصل نسخے کی مانند ان صفحات کی از سر کتابت کی گیی ہے
ماہرین کی مطابق دو سو سال پہلے اصل نسخے کی خطاطی کرنے والے کے توسط سے ہی اس کے جلد کی تعمیر ہوئی ہے.
انکا کہنا تھا کہ اس بارے میں حتمی طور پر فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ واقعی میں یہ قرآن مجید عثمان بن عفان کے زمانے سے متعلق ہے مگر امریکی ماہرین نے تصدیق کی ہیں کہ نسخہ بہت زیادہ قدیم اور پرانا نسخہ ہے۔