
ایکنا نیوز- نیوز ویب سایٹ«News18» کے مطابق ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد سے تمام مسلمان امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے نفرت انگیز جرایم سے پریشان نظر آتے ہیں۔
اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے مسلمان خاتون «معینه شایق» نے اسلام کی پہچان کے لیے اسلام شناسی مہم شروع کرنے کا ارادہ کیا ۔
انہوں نے امریکن اخبار میں ان عنوانات کے ساتھ «کیا اسلام میں خواتین پر تشدد کیا جاتا ہے؟»، «دہشت گردی کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے؟» اور «اسلام دوسرے مذاہب کے بارے میں کیا سوچتا ہے؟» سوالات کیے
معینه نے سان فرانسیسکو کی مقامی ہوٹل میں پروگرام کے مطابق جگہ لی اور لیپ ٹاپ پر کام شروع کیا کیونکہ اس توقع نہ تھی کہ لوگ اس سے سوالات پوچھنے آئیں گے مگر توقع کے برعکس ۱۰۰ لوگوں نے ہوٹل آکر اس سے سوالات پوچھیں۔
اس وقت سے اب تک ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور روز «معینه شایق» کسی ہوٹل یا کیفے شاپ میں بیٹھ کر لوگوں کے سوالات کے جوابات دیتی ہیں۔
وہ ہفتہ میں ایک بار ضرور اس پروگرام پر زاتی خرچہ کرکے منعقد کراتی ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ ناین الیون اور پھر ٹرمپ کے آنے کے بعد سے امریکہ میں اسلاموفوبیا میں حد درجہ اضافہ ہوچکا ہے۔