
ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق جامع مسجد تعلیم القران پر 2013 میں عاشورہ کو ہونے والا حملہ جس کا الزام شیعہ مسلمانوں پر لگا کر کئی امام بارگاہ جلایا گیا۔، پاکستان کی فوج نے آج وہ سازش بے نقاب کردی اور دکھا دیا حملہ کرنےوالے کون تھے پاک فوج نے کہہ دیا پاکستان میں کوئی شیعہ سنی فساد نہیں ۔
پاک فوج کے ترجما ن میجر جنرل آصف غفور نے کہاہے کہ 2013میں سانحہ رالپنڈی میں حملے کرنے والے کا نیٹ ورک
پکڑ ا گیاہے اور مسجد پر حملہ کرنے والوں میں اسی مسلک کے لوگ شامل تھے ۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور کا کہناتھا کہ راولپنڈی میں مسجد پر حملہ کرنے والے اسی مسلک کے تھے ،مسجد میں آگ لگانے والوں کا مقصد فرقہ واریت کو ہوا دینا تھا ۔اس موقع پر کالعدم تحریک طالبان کے دہشتگرد اجمل خان کا اعترافی بیان بھی چلایا گیا ۔ بیان میں اس کا کہناتھا کہ میرا تعلق باجوڑ سے ہے اور میں 2012میں پاکستان آیا ،ہم 8لوگ ہیں ،ہمیں ہدایات دی گئیں کہ 10محرم کو کالے کپڑے پہنے اور حملہ کریں، اس سے شیعہ اور سنی آپس میں لڑیں گے اور حالات خراب ہو جائیں گے ۔
پاک فوج کے ترجمان کا کہناتھا کہ حملے کے بعد ایسا دعویٰ کیا گیا کہ شیعہ تنظیم نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے ،آئی ایس آئی نے اس پر بہت کام کیا اور پورا نیٹ ورک بے نقاب کیا ۔