
ایکنا نیوز- خبررساں ادارے «Korea Times» کے مطابق ایک طرف جہاں چین امریکہ کشیدہ حالات کی وجہ سے کوریا میں چینی سیاحوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی آرہی ہے وہی اس کی کمی پورا کرنے کے لیے نعم البدل ڈھونڈنے کی کوشش بھی ہورہی ہے۔
سیول میں «لاٹا» شاپنگ سنٹر نے مسلمانوں کے لیے نماز خانہ کھول رکھا ہے جہاں قرآن کریم کے نسخے ، سجادے ، وضو کے امکانات اور دیگر ضروریات موجود ہیں۔
اس شاپنگ سنٹر نے مختلف برانچز میں حلال ریسٹورنٹ اور خوراک کا بھی اہتمام کیا ہے تاکہ مسلمان سیاحوں کو سہولت فراہم کرسکے۔
ایک اور شاپنگ مال«گالریا» کی بھی کوشش ہے کہ مسلمانوں سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ سکے۔
چار اہم حلال مراکز میں گالریا بھی امیدوار ہے کہ انکے مراکز میں مسلمان سیاح ضرور سیر کریں گے۔
جنوبی کوریا کے بہت سے مراکز میں حلال مصنوعات عام فراہم ہونے لگی ہیں۔
کورین ہوٹلز اور ساحتی مراکز امیدوار ہیں کہ مسلمان سیاح چینی ٹّوریسٹوں کی کمی پورا کریں گے۔
گالریا شاپنگ مال کے مطابق میڈل ایسٹ کے مسلمان چینی سیاحوں سے تیس گناہ زیادہ فایدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں۔